تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 276 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 276

۲۷۴ - A ہیں۔دی ٹیچر کو سخت مخدوش ماحول میں بذریعہ سائیکل سرگودھا لائے اور فوجی امداد سے اس کے رشتہ داروں کو بر آمد کرایا۔اس طرح ۹۲ میل کا سفر سائیکل پر طے کیا۔نذیر احمد صاحب میانی ضلع شاہ پور نے ایک ہندو مرد اور عورت کی حفاظت کی۔سکھوں نے قادیان میں خان بہادر نواب محمد دین صاحب باجوہ سابق ڈپٹی کمشنر و سابق ریونیو منسٹر جودھپور سٹیٹ کی کوٹھی ٹوٹ لی تھی جس کے ایک حصہ پر چودھری عزیز احمد صاحب باجوہ سب بیج سرگودھا کا قبضہ تھا۔اس مکان کا مال و اسباب لوٹ لیا گیا تھا اور اس کی محافظہ بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر بھاگ سکی تھی بله۔اس کے مقابل پودھری عزیز احمد صاحب کا طرز عمل یہ تھا کہ انہوں نے سرگودھا کی آمدی جماعت کے دوسرے افراد کے تعاون سے کئی سکھوں اور ہندوؤں کی باتیں بچائیں جن میں سرگودھا کے مشہور ایڈووکیٹ نالہ بھگت رام صاحب بھی تھے۔ہے ضلع گوجرانوالہ موضوع کو پر یوالہ اور اس کے گرد و نواح کے سب غیر مسلم مماعت احمدیہ کے اثر و رسوخ سے جانی و عالی وغیرہ ہر نوٹ کے نقصانات سے بالکل محفوظ رہے سکے - پنڈی بھٹیاں میں صرفت دو ایک احمدی تھے مگر انہوں نے حتی الوسع ہر مظلوم کی مدد کی۔ایک ہندو مسافر خانہ اور گیراج کو نذر آتش ہونے سے بچایا۔دوغیر مسلم عورتوں کو پناہ دی اور ان کا قیمتی سامان کیمپ تک پہنچا یا۔اسی طرح تینی غیر مسلم ساہوکاروں کا سامان بھی پوری امانت و دیانت سے اُن کے کہ حوالہ کیا۔۔کیلیا نوالہ کے پنڈت گوگل چند مہرہ نے فسادات کے دنوں میں احمدیہ جماعت مدرسہ جیٹھہ کے ہاں پناہ لی۔جماعت نے ان کی اور بعض دیگر مظلومین کی بھی امداد کی۔نیز ایک اغوا شدہ لڑکی کو بر آمد کیا یاد شده " الفضل" ۲۷ تبوک استمبر ۳۳۷ه مش صفحه ۲۰۲ که بروایت چودھری عزیز اللہ خانصاحب ایڈووکیٹ لویر بیوالہ مضلع گوجرانوالہ : ه بروایت حافظ محمد عبداللہ صاحب پنڈی بھٹیاں ہے شه بروایت عازم محمد صاحب سکرٹی تبلیغ مدرسہ چٹھہ و چوہدری محمد حیات صاحب