تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 271
۲۶۹ قصبہ میں اعلان کر دیا کہ جو شخص ان پر ہاتھ اُٹھائے گا وہ یوں سمجھے کہ اس نے ان پر حملہ نہیں کیا بلکہ ہم پر حملہ کیا ہے۔لے لاہور میں نندہ لعل صاحب چوپڑہ (پنشنز کرنل جود عامل بلڈنگ میں رہتے تھے محض میسرا واقعہ احمدیوں کی کوشش سے جموں کی سرحد تک پہنچے۔چنانچہ کرنل چوپڑہ نے ۲۴ مارچ یو کو حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی خدمت میں لکھا :- " آپ کے اس انتظام کو مفرمائی اور حفاظت کے لئے ہم سب آپ کے تہ دل سے مشکور ہیں اور آپ کے اس احسان اور محبت کے اظہار کے لئے جہانتک انسانیت کا تقاضا ہے میرا یقین واثق ہے کہ میں اور میری اولاد تا زیست آپ کے گرویدہ احسان ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ جذبہ شکر گزاری ہمارے دل میں قائم رہے اور جیسا کہ حالات اچھے ہو رہے ہیں ہم کو پھر موقعہ ملے کہ آپ کی قدمبوسی حاصل کر سکیں اور آپ کے شیریں الفاظ دل اور محبت سے حظ اُٹھانے کا ہم سب کو موقعہ ملے۔میں آپ کا احسان الفاظ سے بیان نہیں کر سکتا۔میرا دل ہی اس کی شہادت دے سکتا ہے۔آپ بزرگ ہیں ، خدا رسیدہ ہیں ہجرت انسانی سے بھر پور ہیں۔میرے لئے دعا کریں کہ مجھے ضرور پھر کبھی محبت ، پر یم اور پیار کا نیاز حاصل ہو" چوتھا واقعہ جناب ملک عبد الرحمن صاحب خادم امیر ضلع گجرات کی ایک مفصل رپورٹ چوتھا واقعہ سے ہمیں ملتا ہے۔گجرات میں چالیس افراد پرمشتمل تین بندو خاندان آباد تھے جن میں الہ دسوندھی رام زرگر، الہ دینا ناتھ صراف لالہ موتی رام دوکاندار، لاله میلا رام نقشه نویس و غیرہ لوگ شامل تھے۔جماعت احمدیہ گجرات نے تقریباً دو ہفتہ تک اس خاندان کو پناہ دی۔اس دوران میں ملک عبدالرحمن صاحب خادم اور دیگر احمدی نہایت فرض شناسی سے پہرہ دیتے رہے۔بلوائیوں نے حملہ کرنے کی پوری کوشش کی مگر ناکام رہے اور ان کو بالآخر حفاظت کے ساتھ ہندوستان بھجوا دیا گیا۔اس کے علاوہ لالہ دینا ناتھ ایڈووکیٹ گجرات کو عین اس وقت جبکہ ہندو اپنے مکانات چھوڑ کر اح" الفضل" ١٩ر الفاء / اکتوبر ة ۱۳۲۶ ه ش