تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 270
مضمون کی تار دے کر میرے واسطے بیس روز کی مزید رخصت لی کہ اگر یہ یہاں سے چلا گیا۔تو سینکڑوں جانیں تباہ ہو جا دیں گی۔ایک دفعہ تقریباً پچاس کے قریب ہندو عورتیں اور مرد لا رہا تھا۔سامان ساتھ نیچروں اور اونٹوں پر لدا ہوا تھا۔ایک گاؤں کے کچھ آدمیوں نے ہلہ بول دیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کے دل میں ڈر پیدا کر دیا اور وہ واپس بھاگ گئے۔ایک گاؤں کے بہندووں کو جو کہ مسلمان ہو چکے تھے لیکن وہ وہاں رہنا نہیں چاہتے تھے۔میں نے نہایت اگلی بنڈ بہت کر کے ان کو ہر طرح سے محفوظ وہاں سے نکالا۔جماعت احمدیہ نے ہر طرح کی قربانی کر کے ان غیر مسلموں کی جان ، مال، عزت اور آبرو کی حفاظت کی لیکن اس کے برعکس ہزار افسوس ہے کہ ان لوگوں نے ہمارے مقدس شہر کو تباہ اور بر باد کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی جس کے ذریعہ ہم ان پر ہر چیز قربان کر دینے کو فخر خیال کرتے ہیں“ لے مولانا عبد القادر صاحب نے (سود اگر مل مرتبی سلسلہ احمدیہ نے کر تو ضلع شیخو پورہ میں احمدیوں کی غیر مسلموں سے حسن سلوک کے بارہ میں حسب ذیل تفصیلات شائع کیں۔دوسرا واقعہ " کر تو ضلع شیخو پورہ میں ایک مشہور قصبہ ہے۔وہاں غیر مسلم قریباً دوصد کی تعداد میں ہیں جب مشرقی پنجاب میں قتل و غارت کا میدان گرم ہوا۔اور ہزاروں کی تعد میں تباہ حال مسلمانا مغربی پنجاب میں آئے اور انہوں نے اپنے المناک واقعات سنائے تو قصبہ کے مسلمانوں کا خون اپنے بھائیوں کے لئے اس قدر جوش مارنے لگا کہ اُن میں سے ہر ایک ہندوؤں کے خون کا پیاسا نظر آتا تھا۔نوبت یہانتک پہنچی کہ تمام غیر مسلموں کو کہ دیا گیا کہ کل تمہیں موت کے گھاٹ اُتار دیا بھائے گا جو تمہاری خواہشات ہیں ان کو پورا کر لو۔چنانچہ دوسرے دن انہیں مقررہ جگہ پر لے جایا گیا۔مگر عین وقت پہ جماعت احمدیہ کے امیر جناب چودھری رحمت علی صاحب والد ماجد چودھری اعظم علی صاحب سینیٹر سب جج اپنے لڑکے کو لے کر موقعہ پر پہنچے گئے اور انہوں نے ان تمام ہندوؤں کو بچا کہ دو دن اپنے گھر میں رکھا اور تیسرے روز تمام " الفضل در نبوت / نومبر میش کا لمر ۲-۳-۴ به