تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 264 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 264

یک ماه طول کشیده است چرا وظیفه خود را انجام نمی دهد و ریل و تلگران و پست را جاری نمی کنند۔آیا برائے ہمیں منظور نیست که میخواهد مسلمان را تباه کند۔ای کاش مسلمانان دیگر ہے به برادران خودشان چه به تحریم چه به تقریه و چه به کردار هر طور که باشد کمک رسانند و عند اله ما جور شوند صدر الدین هندی " (روز نامہ دنیائے اسلام “ طهران صفحہ ۳ کالم ۲ نمبر ۴۵ مطابق ۱ ذیقعده الحرام ۱۳۶۶) ر (ترجمه) مهر ماه ۱۳۴۶ مسلمانان ہند پر ہندوؤں اور سکھوں کا ظلم وستم ایرانی اخبار دنیائے اسلام " اپنے ۲۷ ستمبر کر کے پرچہ میں رقمطراز ہے :- مہندوستان کے ہندو جو کہ ثبت پرست اور اسلام کے شدید ترین دشمن ہیں مسلمانوں سے بارہا یہ وعدہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کے تحفظ و سلامتی کے ذمہ دار ہوں گے مگر صد افسوس! کہ وہ دل سے اس بات کے متمنی ہیں کہ ہندوستان سے مسلمانوں کا صفایا کر کے خود حکومت کریں۔یہ لوگ ہزار ہا مسلمانوں کو تہ تیغ کو پچکے ہیں اور ابھی تک ان کے قتل و غارت میں مشغول اور ان کی بربادی کے درپے ہیں۔انہوں نے تقسیم پنجاب کے لئے سکھوں کو برانگیختہ کر کے پنجاب کے بہت سے اضلاع کو ہندوستان میں شامل کرا لیا ہے۔پھر تعیین حدود کے صریح غیر منصفانہ فیصلہ کے ذریعہ کئی اور علاقے بھی حاصل کر لئے۔اس ستم کے بعد سکھوں نے ہندوؤں کی زیر حمایت اضلاع جالندھر، ہوشیار پورا فروز یک اور گورداسپور میں مسلمانوں کا استیصال شروع کر دیا۔ہزار ہا بستیوں کو ویران اور مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔اس قتل و غارت کی تمام تر ذمہ داری جواہر لال نہرو اور گاندھی پر ہے کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اضلاع بجالندھر، ہوشیار پور اور امرتسر کے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے بعد سکھوں نے ضلع گورداسپور میں ہزار ہا نفوس کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اور ایک ماہ سے قادیان کا محاصرہ کئے ہوئے ہیں جو ابھی تک بدستور قائم ہے۔ریل گاڑی ، تار، ڈاک اور دیگر وسائل منقطع ہو چکے ہیں۔جواہر لعل نہرو کو ہندوستان اور دیگر ممالک کی جماعت ہائے احمدیہ کی طرف سے بے شمار تاریں اور درخواستیں بھیجی گئیں لیکن چونکہ جو اس سال