تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 262
P4- گیا اور گولیوں کی بارش کی گئی جس سے کئی آدمی شہید ہو گئے۔کیا یہ حالات اس قابل نہیں کہ اُن کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا جائے، مسٹر لیاقت علی کا درس امن اپنی جگہ پر بے شک قابل قدر اور لائق توجہ ہے لیکن مشرقی پنجاب کے ان مظالم کے سدباب کے لئے بھی تو کوئی کا موثر تدابیر عمل میں آنی چاہئیں زب۔ص “ لے اخبار حقیقت" لکھنو اخبار حقیقت دیکھنوں نے اپنی ہر نومبر ککڑ کی اشاعت میں لکھا :- " قادیان نرغہ اعداء میں جماعت احمدیہ کے مرکز قادیان سے جو مصدقہ اطلاعات آرہی ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ہند کو ان مظالم سے بے خبر رکھا گیا ہے ہو وہاں کے باشندوں پر پچھلے چند ہفتوں کے اندر کئے گئے ہیں اور آج بھی وہاں سکھ پوری طرح مسلط ہے۔خاص قادیان اور گردو نواح کے مسلمان ہزارہا کی تعداد میں بھاگ گئے ہیں۔احمدی جماعت ہمیشہ حکومت کی وفادار رہی ہے اور جماعت کے امام کی طرف سے آج بھی بار بارہ اس بات کا اعلان کیا جا رہا ہے کہ جس طرح وہ انگریزی حکومت کی وفادار تھی۔اسی طرح وہ ہندوستانی یونین کی بھی وفادا رہے گی۔لیکن ان اعلانات کے باوجود قادیان پر سکھوں کا تسلط روز بروز سخت ہوتا جاتا ہے۔حکومت ہند اور مشرقی پنجاب کی حکومت کے ذمہ داروں نے بار بارہ وعدے کئے کہ وہ قادیان کے حالات کی جلد اصلاح کر دیں گے لیکن آجتک کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔ہمارے خیال میں کسی جماعت کو زبر دستی اس کے وطن سے نکالنا کوئی انصاف کی بات نہیں۔مشرقی پنجاب کی حکومت کے اس طرز عمل کو کوئی مہذب انسان پسندیدہ نہیں کہہ سکتا۔حکومت ہند کے لئے یہ مناسب نہیں ہوگا کہ وہ سکھوں سے مرعوب ہو کہ ایک ایسی زمہ دستی اور نا انصافی کو روا رکھے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی" برما کے اخبارات برما کے اخبارات میں سے ایک اخبار" پیغام" تھا جو رنگوں سے الیں۔ایم علی افسر کے زیر ادارت چھپتا تھا۔اس اخبار نے اپنی ۲ نومبر ہ کی احساسات میں " قادیان کے مسلمانوں کے حالات " " ہندوستان یونین کے مظالم کے خونچکاں واقعات " " سر ما - اخبار نیوان بدر اس ۳۰ اکتوبر اندر صله ؟