تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 258 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 258

۲۵۶ کیا۔فسادات سے چند ماہ پیشتر قادیان کے چاروں طرف ایک فصیل بنادی گئی تھی اور ہر طرف - مناسب جگھوں پر حفاظتی چوکیاں قائم کر دی گئی تھیں چنانچہ بعض جو کیوں پر بد معاش سکھوں سے مقابلہ ہی اجن میں انہوں نے منہ کی کھائی۔چونکہ اس ہندوستان گیر سازش میں حکومت وقت بھی شامل تھی اس لئے نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ سکھ آہستہ آہستہ تمام اطراف سے بڑھتے گئے اور قادیان والے اب شہر کی چار دیواری سے باہر نہ نکل سکتے تھے۔یہ دباؤ دن بدن بڑھتا ہی گیا۔چنانچہ مقامی حکومت نے اپنے مقاصد میں کامیابی کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا کہ شام پڑھ بجے سے کرفیو لگا دیا جاتا تھا اور غیر مسلموں کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی کہ جہاں چاہیں پھر یوں اور کسی مسلمان کو دیکھ پائیں تو موت کے گھاٹ اتار دیں۔کوفیہ کے اوقات میں مسلمانوں کے املاک کو ٹوٹا گیا اور شہریوں کو بلا وجیہ کرفیو کی خلاف ورزی کی پاداش میں طرح طرح کی سزائیں دی گئیں۔مقامی پولیس کے ایک سکھ اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو تمام اختیارات سونپ دیئے گئے چنانچہ اب کرفیو کا لگانا اور کسی مسلمان کو پکڑ بلا نا اس کی مرضی پر موقوف ہو گیا۔یہ اعلان بذریعہ منادی کرا دیا گیا کہ مقامی لوگ اپنا اپنا لائسنس یافتہ اسلحہ پولیس اسٹیشن میں جمع کرا دیں ورستر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔علاوہ ازیں مہاجرین کو بھوکا مارنے کے لئے اعلان کر دیا کہ ہر ایک مقامی شخص صرف ایک من غلہ اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔اس مقدار سے فاضل غلہ گورنمنٹ کے پاس جمع کر دینا چاہیئے۔چنانچہ اس حکم کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں بہت سے شہریوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا۔ان مظالم کے با وجود قادیان والے اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے تھے حکومت چاہتی تھی کہ یہ لوگ اپنی بستیوں کو خالی کر دیں۔اس لئے مقامی پولیس اور ملٹری نے یہ چال چلی کہ بہت سے دیہاتی سکھوں کو جعلی طور پر پولیس اور ملٹری أقول کا لباس پہنا دیا گیا اور تمام شہر میں ان لوگوں نے خانہ بخانہ جا کہ مویشیوں کو کھول لیا۔اس بہانہ ان کو بھگا کر لے گئے کہ قادیان میں پارہ کی کمی ہے۔چنانچہ ایک دن میں لاکھوں روپے کے مویشی لوٹ لئے گئے۔علاوہ ازیں الیکٹرک کو عمداً فیل کر کے اندھیرے میں لوگوں کے گھروں کو ٹوٹا گیا۔لیکن