تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 251
قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ان دونوں حضرات کی عمر ساٹھ ساٹھ سال ہوگی اور اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ اور معزز آدمی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ قادیان کے مسلمانوں نے اب تک ثبات و استقلال کا جو ثبوت دیا ہے اور نواحی علاقے کی تباہی کے باوجود جس صبر و سکون سے ڈٹے رہے ہیں وہ مشرقی پنجاب کے حکام کے نزدیک بہت تکلیف دہ ہے یہی وجہ ہے کہ اب انہوں نے قادیان میں تلاشیاں اور گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔ان کا منشاء یہ ہے کہ قادیان میں جو ایک لاکھ مسلمان اس وقت جمع ہیں وہ بھی پریشان ہو کہ بھاگ کھڑے ہوں اور خونخوار فنڈ سے ہر طرف سے ان پر حملہ کر کے انہیں ختم کر دیں۔پاکستان کے وزیر اعظم کا فرض ہے کہ قادیان کے مسئلہ کی طرف بطور خاص حکومت ہندوستان کی توجہ مبذول کرائیں “ لے (اداری) پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام نامہ پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ ملتان کی طرف سے سکھوں نے آپ کی حکومت اور سکھ ریاستوں کی فوج اور پولیس کی امداد سے مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو تباہ کر دیا ہے۔اب آپ کی حکومت کے تمام احکام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب قادیان کی تباہی کی باری ہے۔قادیان کے ارد گرد دو دو میل تک کا علاقہ توده خاکستر بنا دیا گیا ہے حالانکہ آپ کی حکومت ان لوگوں کی حفاظت کا وعدہ کر چکی تھی تازہ احکام یہ ہیں کہ قادیان پر نہ طیارے اڑائے بھائیں نہ قادیان کے باہر چیپ کاریں چلائی جائیں نہ احمدی کوئی وردی پہنیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت نہ صرف اہل قادیان کو اپنی صفات کا موقع دینا نہیں چاہتی ہے بلکہ ان کی تباہی کی اطلاع کو بھی باہر پہنچنے سے روک رہی ہے میری استدعا ہے کہ آپ ظلم وستم کے نتائج پر غور کریں اور یاد رکھیں کہ احمدیوں نے قادیان کی مقدس سرزمین کے لئے اپنی جانیں قربان کر دینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔خدا آپ کی حکومت کے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔اس نے ظلم وستم کرنے والوں کو ہمیشہ بر باد کیا ہے۔اگر آپ خدا سے نہ ڈریں گے تو وہ ایک دن آپ کو بطش شدید میں گرفہ شام کرے گا " سے انقلاب و ستمبر شماره صفحه ۲ ه انقلاب ۲۵ ستمبر ۱ صفحه ۲ کالم ۲۵