تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 250
نواج قادیان میں مسلمانوں کے ۵۴ گاؤں جلا دیئے گئے دیہات کی تباہی ، حملہ آور ، عورتیں اُٹھا کر لیگئے لاہور ارستمبر بدھ کے دن احمدیہ سہیڈ کوارٹرز لاہور سے قادیان اور اس کے نواحی دیہات کے متعلق مندرجہ ذیل بیان شائع کیا گیا ہے :- مرکز احمدیت قادیان کے گردو نواح کے 14 دیہات پر حملہ کیا گیا ہے اور لوٹ کھسوٹ کی گئی ہے ان میں سے ہمہ کو نذر آتش کر دیا گیا ہے حملہ آور ۱۴۷ عورتوں کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔قادیان میں تحریک احمدیت کے دو نہایت ہی ممتاز لیڈر گرفتار کر لئے گئے قادیان میں اعیان و اکابر کی خانمتلاشیاں ایک کو مسلمانوں کو دہشت زدہ کر کے نکال دینے کی کوشش ہور ، استمبر- اطلاع موصول ہوئی ہے کہ قادیان کے ناظر اعلیٰ چوہدری فتح محمد سیال ایم اے ( ایم ایل اے) اور سلسلہ احمدیہ کی نظارت امور عامہ کے انچارج سید زین العابدین ولی الله شاه کو سری کو بندپور تھا کے علاقے کے سکھوں کو قتل کرنے کے الزام میں زیرہ دفعہ ۳۰۲ تعزیرات ہند گرفتار کر لیا گیا ہے۔گرفتاری کے وقت مسلح پولیس اور فوج کے علاوہ اس علاقے کے سکھ برچھیوں بھانوں اور گنڈا سوں سے مسلح تھے ہمراہ تھے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی مقام پردھاوا بولا جا رہا ہے۔قادیان کے معزز اور مقتدر ارکان اور پناہ گزینوں کی تلاشیاں بھی لی گئیں۔قادیان میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب مسلمان جمع ہیں اور اگر اُن کی حفاظت کے لیئے مسلمان فوجی دستے متعین ہو جائیں تو وہ اپنے گھروں کو چھوڑنے کی بجائے اپنے دیتے ہی میں آباد ہونے کو ترجیح دیں گے یا سکے قادیان کے اکابر کی گرفتاری جماعت احمدیہ کے اکابہ میں سے چودھری فتح محمد سیال ایم اے ( ایم ایل اے) اور سید زین العابدین ولی اللہ شاہ کو مشرقی پنجاب کی حکومت نے زینہ واقعہ ۲ و سکھوں کے انقلاب ضمیمه ۴ ار تمبر ۱۹۴۷ صفحها : له " انقلاب" ۱۸ ستمبر ۱۹۴۷ صفحه !۔