تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 243 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 243

۲۴۱ لیگی کا بھی کوئی امتیازہ نہیں۔دو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ نام مسلمانوں کا ہے اور رسل صورت مسلمانوں کی سی ہے ایسا شخص ان کے نزدیک واجب القتل ہے۔اگر اہلِ قادیان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ غنڈہ گردی کا مقابلہ کریں گے اور مدافعت و مزاحمت کئے بغیر یہاں سے نہیں نکلیں گے تو ہر کلمہ گوان سے حسب استطاعت عملی یا محض اخلاقی ہمدردی کا اظہار کرنا چاہیئے " ساله ۲۔اسی اخبار ” نوائے وقت نے اپنی اشاعت ۱۲۳ ستمبر میں حسب ذیل خبر شائع کی :- قادیان میں حکام نے کرفیو نافذ کر دیا۔خانہ تلاشیوں کی بھرمار لوگوں سے اسلحہ چھینا جا رہا ہے۔سکرٹری امین احمدیہ پاکستان کا بیان لاہور ۲ ستمبر وسطی انجین احمدیہ پاکستان کے سکرٹری نے مندرجہ ذیل بیان اخبارات کے نام جاری کیا ہے کہ اہ ستمبر سے قادیان میں 4 بجے شام سے لے کر صبح پانچ بجے تک کے لئے کرفیو ں گا دیا گیا ہے۔اگر تو اس اقدام سے امن قائم رہا تو مسلمان اس کا روائی پر حکومت کے معنون ہوں گے لیکن اگر اس کارروائی سے قادیان کے مسلمانوں کے خلافت کوئی بھارحانہ حملہ کیا جانا مقصود ہے تو اس بات میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوگی کہ کر نیو اس لئے لگایا جائے کہ مسلمانوں کو جعد دفاع کے لئے تیاریاں کر رہے ہیں، انہیں نہیں نہیں کر دیا جائے۔سرکاری خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ پونیں تلاشیاں لے رہی ہے اور لائسنس یافتہ بندوقیں اور گولی بارو و ضبط کر رہی ہے۔پولیس نے احمدیہ جماعت کے امام کے گھر پہ چھاپہ مارا اور ان کا تمام اسلحہ ضبط کر لیا جس کا لائسنس ان کے پاس موجود تھا۔اس امر کا خدشہ ہے کہ کوئی حملہ نہ ہو جائے اور حکومت پھر یہ عذر نہ کہ ہے کہ جھتے قابو سے باہر ہو گئے اور انہوں نے فوج پر حملہ کر دیا اس لئے احمدیوں کے خلاف کارروائی کرنی پڑی۔ہر ایک آدمی سمجھ سکتا ہے کہ کرفیو کے نفاذ کے بعد سکھ جیتے اور پولیس کا کوئی کارروائی کرنا سوائے اس کے اور کچھ مقصد نہیں رکھتی کہ پولیس احمدیوں کے کے خلاف ان سیمتوں کی مدد کرے “ سے شه "نوائے وقت " ۲۲ ستمبر ۱۹۳۷ در صفحه ۳ : نه " نوائے وقت" ۲۳ م ۱۹ صفحه