تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 225
۲۲۳ جب جرمنی کے وحشی درندوں کے سے مظالم کے بعد چودھری محمد شریف لاعلمی کا اظہار کرتا اور کہتا ہے کہ قادیان میں کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں وہاں صرف چند لائسینس والی بندوقیں ہیں ین کا حکومت کو علم ہے تو سکھ سپاہی بے تحاشہ طیش میں آکر وحشیانہ انداز میں اُسے زد و کوب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔چودھری محمد شریف باجوہ کے خلاف الزام یہ ہے کہ وہ قادیان کا رہنے والا اور مسلمان ہے بسکھ پولیس کے نازی ظلم وستم سے تنگ آکر اس مرد مجاہد نے کئی دفعہ مطالبہ کیا ہے کہ میں جانتا ہوں میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں اس لئے تم مجھے اس مجرم کی سزا میں ایک ہی دفعہ شوٹ کر دو اور میرا قصہ پاک کرد۔لیکن اس کے اس صبر استقلال کو دیکھ دیکھ کر سکھ پولیس اور بھی وحشیانہ سزاؤں پر اُتر آئی ہے۔اگر گورداسپور جبیل کے تمام واقعات کو منظر عام پر لایا جائے تو سنگدل سے سنگدل انسان بھی کانپ جائے۔مراد پور کے مسلمان ہو قادیان آرہے تھے ڈلہ کے سکھوں نے لوٹ لئے۔جب تھانیدار کے پاس رپورٹ کی گئی تو اس نے ان بیچاروں کی اور بھی بے عزتی کی مسلمانوں کا تمام سامان ڈلہ کے گوردوارہ میں منتقل کر دیا گیا۔چند مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ایک زخمی عورت نے ہی چھپ کر اپنی جان بچائی اور کھیتوں میں چھپ چھپا کہ قادیان پہنچی۔صاف شہادتوں کے باوجود قادیان کی پولیس نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔تلونڈی جھنگلاں کے مسلمان بھی جب قادیان آئے تو اُن کا بھی سب سامان اور مویشی ال سے زیرہ دستی چھین لئے گئے۔استمبر کو قادیان کی ہندو ملٹری نے سکھوں کو اسلحہ دے کہ موضع کھارا میں بھیجا اور مسلمانوں کو زبر دستی وہاں سے نکلوا دیا اور کوئی چیز نہیں لانے دی۔اُن کا آٹا وغیرہ بھی راستے میں چھین لیا اور ان کے مکان تباہ وبہ باد کر دیئے۔۱۳ ستمبر کو چند سکھ تحصیلدار کا ایک رقعہ لے کر قادیان کے تھانیدار کے پاس آئے۔جس میں یہ لکھا تھا کہ انہیں موضع ننگل میں بسایا جائے جو قادیان سے ایک میل کے فاصلے پر ہے لیکن اس میں مسلمان آباد تھے۔19 ستمبر کو ہزارہ سنگر تھانیدار سکھ پولیس کو لے کر