تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 205
۲۰۳ تھوڑی دیر بعد ہی کرفیوں گا دیا گیا۔اس پر وہ لوگ جو مکانوں میں یا کھلے میدان کے کیچڑ اور پانی میں پڑے تھے ابھی سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ کسی قدر سردی اور بہت زیادہ بھوک سے نڈھال گھٹ کر رہ گئے اور پھر معا بعد ہھتیار بند پولیس کی معیت میں مسلح سکھوں کی ٹولیاں محلہ وار رحمت کے جنوب سے محلہ میں داخل ہونا شروع ہو گئیں اور تمام مال مویشی جن میں اونٹ بیل بھینسیں بھینسے گائیں گھوڑیاں خچریں گدھے اور بھیڑ بکریاں شامل تھیں کیلوں سے کھول کر ہانکنے لگے۔اور تمام محلہ میں سے نہ صرف تباہ حال پناہ گزینوں کے بلکہ بعض مقامی اصحاب کے مویشی بھی ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے کر کے محلہ کے شمال کی طرف نکل گئے مویشیوں میں زیادہ تر اعلیٰ نسل اور بھاری قیمت کے بیل تھے جن کے ذریعہ پناہ گزین گڑوں میں اپنا بچا کھچا اسباب لاد کر لائے تھے اور اس امید میں پڑے تھے کہ پیدل قافلہ روانہ ہو گا تو وہ گڑوں میں سامان کے بھاسکیں گے لیکن پولیس نے نہایت شقاوت قلبی سے تمام مویشی چھین کر اُن کو بے دست و پا بنا دیا۔اور جب ان لوگوں نے دیکھا کہ اب نہ صرف گڑوں کا لے بھانا ان کے لئے ممکن نہیں بلکہ گڑے بھی لٹیرے سیکھ پولیس کی مدد سے چھین لیں گے تو انہوں نے گڑے جو کئی سو کی تعداد میں تھے توڑ پھو کو بھلا نے شروع کر دیئے اور دوسرے تیسرے دن جب سیکھ گڑوں کی تلاش میں آنکھے تو اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔-۶ ۳ اکتوبر کا المناک دن ان حالات میں آخر وہ دن آگیا جب ملٹری پولیس اور سکھوں نے مل کر قادیان میں قیامت برپا کردی اور ان لوگوں کو اپنے انتہائی ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جو نہ صرف حکومت کے قوانین کی پوری پوری پابندی کرنے اور سمجھی وفاداری کا ثبوت دینے کا اعلان کر چکے تھے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کر رہے تھے اور جن کے ہاتھوں پاکستان کے کسی حصہ میں نہ صرف کسی سیکھ یا ہندو کو جانی یا مالی کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ کثیر التعداد سکھوں کی جان و مال اور عزت و آبرو احمدیوں نے بچائی۔انہی ایام میں جبکہ سکھوں نے قادیان کو نہایت بے دردی اور بے رحمی سے اپنی طرف سے اُجاڑ دیا اور نہایت شرمناک مظالم احمدیوں پر کئے۔میں نے دیکھا کہ ایک نہایت معزز عمر رسیدہ سکھ جن کی شکل و شباہت سے شرافت اور عالی نسبی ظاہر تھی منہ چند