تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 184 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 184

ر ہم قادیان کے متعلق پہلے کچھ حالات لکھ چکے ہیں۔ہم بتا چکے ہیں کہ قادیان اور مشرقی پنجاب کے دوسرے شہروں میں فرق ہے۔قادیان کے باشندے قادیان میں رہنا چاہتے ہیں۔لیکن مشرقی پنجاب کے دوسرے شہروں کے باشندوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ مشرقی پنجاب میں نہ رہیں۔بہندوستان یونین کی گورنمنٹ بار بار کہہ چکی ہے کہ ہم کسی کو نکالتے نہیں۔لیکن قادیان کے واقعات اس کے اس دعوی کی کامل طور پر تمدید کرتے ہیں۔حال ہی میں قادیان کے کچھ ذمہ دار افسر گورنمنٹ افسروں سے ملے اور باتوں باتوں میں ان سے کہا کہ آپ لوگ اپنی پالیہ ہم پر واضح کر دیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم قادیان چھوڑ دیں تو پھر صفائی کے ساتھ اس بات کا اظہار کر دیں۔افسر مجاز نے جواب دیا کہ ہم ایسا ہر گز نہیں چاہتے۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ قادیان میں رہیں۔جب اسے کہا گیا کہ وہ کہاں رہیں، پولیس اور ملٹری کی مدد سے سکھوں نے تو سب محلوں کے احمدیوں کو زبردستی نکال دیا ہے اور سب اسباب لوٹ لیا ہے۔آپ ہمارے مکان خالی کرا دیں تو ہم رہنے کے لئے تیار ہیں تو اس پر افسر مجازہ بالکل خاموش ہو گیا اور اس نے کوئی جواب نہ دیا۔درحقیقت وہ انسر خود تو دیانتدار ہی تھا لیکن وہ وہی کچھ رکٹ لگا رہا تھا جو اُسے اُوپر سے سکھایا گیا تھا۔جب اس پر اپنے دعویٰ کا بودا ہونا ثابت ہو گیا تو خاموشی کے سوا اس نے کوئی چارہ نہ دیکھا۔شاید دل ہی دل میں وہ ان افسروں کو گالیاں دیتا ہو گا جنہوں نے اسے یہ مضلات عقل بات سکھائی تھی۔قادیان کے تازہ حالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لکڑی تقریباً ختم ہے۔گندم بھی ختم ہو رہی ہے۔گورنمنٹ کی طرف سے غذا مہیا کرنے کا کوئی انتظام نہیں۔اب تک ایک چھٹانک آٹا بھی گورنمنٹ نے بہتا نہیں کیا عورتوں اور بچوں کے نکالنے کا جو انتظام تھا اس میں دیدہ دانستہ روکیں ڈالی جارہی ہیں۔بارش ہوئے کو آج نو دن ہو چکے ہیں۔بارش کے بعد قادیان سے دو پہنچے آپکے ہیں۔اسی طرح قریباً روزانہ ہندوستانی یونین کے ٹرکیس فوج یا پولیس سے متعلق ت دیان آتے جاتے ہیں۔اور اس کے ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔چارہ تاریخ کو پولیس ایک لڑک قادیان سے چل کر واہگہ تک آیا۔تین تاریخ کو پاکستان کے ان فوجی افسروں کے سامنے جو گورداسپٹو کی فوج سے قادیان بجانے کی اجازت لینے گئے تھے ایک فوجی افسر نے آکر میجر سے پوچھا کہ وہ