تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 174 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 174

۱۷۲ سید تا اصلح الموعود کا پہلا مضمون حضرت سید اصلح الموعود نے کوائف قادیان کی نسبت جو پہو اہم مضمون تحریر فرمایا وہ بجنسہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔قادیان اس وقت ہندوستان یونین کی دیانتداری کی آزمائش بعنوان "قادیان" کا محل بنا ہوا ہے۔قادیان احمدیہ جماعت کا مرکز ہے جس کا یہ عقیدہ ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہیں اس کے پورے طور پر فرمانبردار اور مددگار رہیں۔جب ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی احمدیہ جماعت ہمیشہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتی تھی گو مناسب طریق پر اس کی غلطیوں سے اسے آگاہ بھی کرتی رہتی تھی۔بعض لوگ جماعت احمدیہ کے اس طریق پر اعتراض کرتے تھے اور اسے انگریزوں کا خوشامدی قرار دیتے تھے۔جماعت احمدیہ اس کے جواب میں ہمیشہ یہی کہتی تھی کہ ہم صرف انگریزوں کے فرمانبردار نہیں بلکہ افغانستان میں افغانی محکومت کے اور عرب میں وبی حکومت کے ، مصر میں مصری حکومت کے اور اسی طرح دوسرے ممالک میں ان کی حکومتوں کے فرماں بردار اور مددگار ہیں۔ہمارے نزدیک دنیا کا امن بغیر اس کے قائم ہی نہیں رہ سکتا کہ ہر حکومت میں بسنے والے لوگ اس کے ساتھ تعاون کریں اور اس کے مددگار ہوں پچھلے پچاس سال میں جماعت احمدیہ نے اس تعلیم پر عمل کیا ہے اور آئندہ بھی وہ اسی تعلیم پر عمل کرے گی جب ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور اس میں ہندوستان یونین اور پاکستان قائم ہوئے تو اس وقت بھی جماعت احمدیہ نے اعلان کیا کہ ہندوستان یونین میں رہنے والے احمدی ہندوستان یونین کی پوری طرح اطاعت کریں گے اور پاکستان میں رہنے والے احمدی پاکستان حکومت کے متعلق میاں نثاری اور اطاعت سے کام لیں گے۔پاکستان حکومت نے تو ان کھے اس اعلان کی قدر کی اور اچھے شہریوں کی طرح اس سے برتاؤ کیا لیکن ہندوستان یونین نے ان کے اس اعلان کی ذرا بھی قدر نہیں کی اور 4 اگست کے بعد پہلے قادیان کے ارد گرد ! اور پھر قادیان میں وہ فساد مچھوایا کہ تیس کی کوئی حد نہی نہیں۔ایک ایک کر کے احمدی گاؤں کو برباد کیا گیا اور جنہوں نے دفاع کی کوشش کی ان کو پولیس اور ملٹری نے گولیوں سے مارا جب قادیان کے اردگرد کے گاؤں ختم ہو گئے تو پھر قادیان پر حملہ شروع ہوا۔احمدی جماعت کے معززین یکے ے یہ مضمون پمفلٹ کی صورت میں بھی شائع کیا گیا جسے بھارتی حکومت نے ضبط کر لیا تھا یہ