تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 173
141 ۱۵ اکتوبر ۱۹۴۷ئر - جماعت احمدیہ کا پر لی جس میں جماعت کا مرکزی انجا الفضل چھپتا تھا اور اسی طرح حضرت خلیفہ ایسی اول کی لائیبر یوری اور اس کے ساتھ شامل شده دیگر لائیبریریوں پر قبضہ کر کے ان پر مہریں لگا دی گئیں۔اس مرکزی لائیبریری میں تیس ہزار کے قریب علمی کتابیں تھیں ، ہجو زیادہ تر عربی اور فارسی میں تھیں اور کئی نایاب کتب اور بیش قیمت قلمی نسخے بھی لائیبریری میں موجود تھے جن سے احمدی علما ء اپنی علمی تحقیقاتوں میں فائدہ اُٹھاتے تھے۔۳۰ اکتوبر ائر۔اس دن معلوم ہوا کہ حملہ کے ایام میں اور اس کے بعد قادیان کی تین مسجدوں کی بیحرمتی کی گئی ہے یعنی مسجد محلہ دارالرحمت کے مینار مسمار کر دیئے گئے تاکہ مسجد کی علامت کو مٹا دیا بجائے مسجد خوجیاں (جو قادیان کے دوسرے مسلمانوں کی مسجد تھی، پر یہ بورڈ لگا دیا کیا کہ یہ آریہ سماج کا مندر ہے اور محلہ وارالعلوم کی مسجد نور جو تعلیم الاسلام کالج کے ساتھ ملحق تھی اسے غیر مسلموں نے اپنی بجلسہ گاہ بنا لیا اور صحن مسجد کے نلکوں پر سکھوں نے کپڑے دھونے شروع کر دیئے۔14 نومبر کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی کے حکم سے مولوی جلال الدین صاحب شمس اور عزیزم مرزا ناصر احمد صاحب قادیان سے لاہور آگئے۔اور شمس صاحب کی جگہ قادیان میں مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر مقامی اور عزیزم مرزا ظفر احمد صاحب ناظر اعلیٰ مقرر ہوئے" نے قادیان پر حملہ اور خونریز جنگ کی واضح تفصیلات حضرت قران انبیاء کے الفاظ میں قادیان پر ہونے والے مظالم کا اجمالی خاکہ درج کرنے کے بعد اب ہم قادیان پر حملہ اور خونریز جنگ کی واضح تفصیلات سید نا المصلح الموعود کی زبان مبارک۔پیش کرتے ہیں حضور نے یہ تفصیلات انہی ایام میں تین مفصل اور معرکۃ الآراء مضامین اور ایک خطبہ جمعہ اور پریس کا نفرنس میں بیان فرمائی تھیں۔له " الفضل" در صلح بجنوری ، صلح جنوری ، ۹ صلح / جنوری ماه پیش حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے افضل کے ان گرانقدر مضامین کو اُردو میں مظالم قادیان کا خونی روز نجی کے نام سے اور انگریزی میں " QADIAN DIARY کے نام سے بکثرت شائع فرما دیا تھا ہے