تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 158 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 158

۱۵۸ ستمبر ۱۹۴۷ مہ۔قادیان کے مشرقی جانب مواضعات بگول اور خوشحال پور وغیرہ کے سات احمدی نہر کے پل پر کا عنوان کی پولیس نے گولی مار کر شہید کر دیئے۔براہ۔قادیان کے جنوبی جانب مراد پورہ گاؤں کا ایک احمدی سکھوں نے شہید کر دیا اور بعض دوستر احمدیوں کے اموال لوٹ لئے۔ستمبر یہ بٹالہ میں قادیان کے تین احمدی نوجوان جو ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو ایک چھٹی پہنچانے کے لئے بھار ہے تھے خاکی لباس پہننے کی وجہ سے گرفتار کرلئے گئے اور ان کے موٹر سائیکل چھین لئے گئے ۹۴ہ - قادیان کے گرد و نواح میں جیپ گاڑیوں کی نقل و حرکت ممنوع قرار دے دی گئی اور ۲۱۹۴۷ ر بقیه حاشیہ صفحہ گذشتہ گوئی سورت ہوگئی جو قادیان میں ٹڈاکٹر میجر شاہ نواز خانصاحب نے اپریشن کر کے نکالی یہاں ضمتا یہ بتانا بھی مناسب ہوگا کہ ان ایام میں چونکہ روز بروز گرد و نواح سے آنے والے زخمی مسلمانوں کی تعداد میں زبر دست اضافہ ہو رہا تھا، اس لئے حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی اپیل پر تمام احمدی ڈاکٹروں نے اپنی خدمات زخمیوں کی امداد کے لئے رضا کارانہ طور پر پیش کر دی تھیں حضرت میاں صاحب نے اپنی اپیل میں فرمایا :- احمدی ڈاکٹروں کا فرض صرف اس حد تک محدود نہیں ہے کہ زخمیوں کو امداد پہنچائیں بلکہ ہر جہت سے اُن کے آرام کا خیال رکھنا اور انہیں ہر وقت خوراک و غیر مہیا کرنا اور اُن میں اپنی روح کو قائم رکھنا اور اُن کے ساتھ ہر رنگ میں ہمدردی کے ساتھ پیش آنا بھی ڈاکٹروں کے فرض میں شامل ہے" نیز انہیں یقین دلایا کہ اگر انہیں خرچ کا خیال ہو تو میں اس بات کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ انشاء اللہ سلسلہ کی طرف سے تمام ضریب " لے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے ان میں سے دو احمدسی جوانوں کا ذکر اپنی سالانہ رپور میں بھی کیا ہے۔فرماتے ہیں کہ ر ضلع کے حکام کو باربار کھا گیا میں خود تراک حالات میں اس غرض سے دو با گورداسپور گیا اور پر موٹرسائیکل پر مستری احمد علی صاحب اور عبدالکریم صاحب پسر با با نظام الدین کو اپنی ضروری چٹھیوں کے ساتھ گورداسپور ڈی سی اور ڈسٹرکٹ بریگیڈیر کے پاس بھیجا۔یہ دو نو نوجوان گرفتار کر لئے گئے اور انہیں جیل میں ٹھونسا گیا " در پورٹ صدر انجمن احمدیه ۱۳۲۶۲ مش صفحه ۴۲) تیسرے احمدی جو اُن کے ساتھ قید ہوئے محمد کی صاحب کر سادی تھے۔یہ تینوں پہلے بٹالہ اور پھر گورداسپور میں قریباً ایک ماہ تک جیل میں رکھے گئے آخر ایک اچانک یہ لوگ جیل کی سختیاں جھیلنے کے بعد گورداسپور سے رہا ہو کر بٹالہ لائے گئے جہاں سے ایک مسلمان قافلہ کے ساتھ پاکستان پہنچے میتری احمد علی صاحب کا بیان ہے کہ میں گورداسپور جیل سے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے بعض ضروری کا غذات بھی لایا تھا جو میں نے رتن باغ پہنچتے ہی حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بھجوا دیئے۔ادھر یہ غذات پہنچے اُدھر حضور بنفس نفیس سیڑھیوں میں تشریف لے آئے اور آتے ہی فرط محبت سے بغلگیر ہو گئے اور دیر تک مجھے اپنے سینہ سے لگائے رکھا اور معالات دریافت فرمانے کے بعد متعلقہ کارکنوں کو ارشاد فرمایا کہ ان کے کھانے پینے اور علاج معالجہ کا انتظام کیا جائے۔چنانچہ حضور کے اس فرمان مبارک کی پوری تعمیل کی گئی۔