تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 145
۱۴۵ شده ہیں۔والدہ مکرمہ کی طرف سے ماموں شمس کو ماموں قمر الدین اور ماموں اسماعیل صحب کو اسلام علیکم دیں“ ۲۷- محترم چوہدری فضل احمد صاحب کے دوگرامی نامے اپنے بیٹوں (محمد احمد صاحب و شریف احمد صاحب) کے نام :- (الف) " یہ خط میں پرائیویٹ سکرٹری صاحب کی معرفت بھیجتا ہوں کیونکہ ویسے نہ تمہارا خط مجھے پہنچ سکتا ہے نہ میرا تمہیں۔۔۔جو کام ملے خوب کرو۔صحت کا تم سب خیال۔رکھو تا کہ اچھی طرح سے خدمت سر انجام دے سکو جو تمہارے سپرد ہو (آمین) (ب) " آپ سب تاریخ احمدیت میں عزت سے یاد کئے بجاؤ گے۔اپنی ڈیوٹی استقلال سے کرو۔اللہ کی رضاحاصل کرنے کے ایسے ہی موقعے ہوتے ہیں۔یہ گھنگنیاں جو آپ کھانے میں ملتی ہیں۔یہ آپ جیسے خوش قسمت نوجوانوں کو ہی نصیب ہو سکتی ہیں جو قومی قربانی کا کام کریں۔۲۸ محترمہ عائشہ بی بی صاحبہ لاہور نے اپنے خاوند الله د تا صاحب بت محله دارالرحمت قادیان کے نام یہ مکتوب لکھا :- و آپ نے بڑا اچھا کیا جو قادیان میں رہنے کے لئے نام دے دیا ہے اور اب آپ کو چاہیے که بغیر اجازت امیر صاحب کے ہر گنہ قادیان سے باہر نہ جائیں“ ۲۹۔محترمہ نصیرہ نزہت صاحبہ رنمل ضلع گجرات سے اپنے شو ہر مکرم محافظ بشیر الدین صاحب واقف زندگی کے نام رقمطراز ہیں :- "خوش رہیں۔کامیابی و کامرانی کی مرادیں دیکھیں۔قادیان کے جھنڈے کو بلند کرنے والوں میں سے ہوں اور دعا بھی کریں کہ خدا کے نام کو پھیلانے والوں میں سہارا بھی نام ہے۔۔۔۔۔۔آپ کی خیریت کی مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی۔ملتی بھی کیسے ؟ میں ایسی جگہ ہوں جہاں قادیان کی مقدس بستی کے حالات واقعات جوبعد میں رونما ہوئے نہیں پہنچتے۔میں یہاں (نمل ه حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمش مراد ہیں : که حال ناظر تعلیم صدر انجمن احمدیہ پاکستان : که این حضرت مولوی عبید اللہ صاحب مبلغ شہید ماریشی به