تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 144
۱۴۴ کا اظہار نہیں کیا کہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ قربانی کی گئی ہے جس کا دل پر ہرگز ملال نہیں ہونا چاہیے۔مگر سچ پوچھٹے اور یقین جانئے میں یہ باتیں پوشیدہ ہی رکھنا چاہتی تھی۔میں سوچتی تھی کہ اپنے بعد بات ظاہر کر کے خواہ مخواہ ریاکار بنوں۔مگر پھر دل نے کہا کہ خاوند سے بھی کوئی بات پوشیدہ رکھی جاسکتی ہے ، اس لئے اب میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ میں بالکل مطمئن ہوں اور اپنے آپ میں بہت خوشی محسوس کرتی ہوں کہ آپ کو اللہ تعالی نے اس شاندار قربانی کا موقع عطا فرمایا۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔لوگ دنیاوی جنگوں میں سمندر پار چلے جاتے تھے اور جدائی کی گھڑیاں کئی مہینے گزارتے تھے تو کیا آپ جو کہ ایک دینی جنگ میں حصہ لے رہے ہیں اس کی خاطر اگر ہم تھوڑی سی جدائی برداشت کریں تو نہ معلوم اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ہم پر کیا افضال نازل فرمانے اے خدا تو ایسا ہی کر لو۔آمین ثم آمین " ) بلا تاریخ ۲۵۔محترمہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے اپنے بیٹے محترم ڈاکٹر محمد احمد صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی نعیم احمد صاحب اور ان کے بہنوئی محمد رفیق صاحب اور ان کے بھتیجے عبدالرشید کے نام حسب ذیل نصیحت نامہ بھجوایا :- و جو آزمائش کا وقت تم سب پر آیا ہے اس کو دلیری اور جوانمردی سے گذار و۔اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے وہ تم سب کو ثابت قدم رکھے اور دین کی خدمت کا زیادہ سے زیادہ تے موقع عطا فرمائے“ ۲۶۔محترمہ امتہ الرشید شوکت صاحبہ نے اپنے بھائی مولوی نورالدین صاحب میر انچارج بیت کو ذیل کا خط تحریر کیا :- قادیان کے حالات سے مطلع فرمائیں۔آپ کو خدا تعالٰی نے قادیان میں رہ کر جہاد کرنے کا موقع دیا ہے۔اللہ تعالے آپ کو اس کی جہاد سے اور استقامت عطا فرمائے۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اپنے آپ آنے کی درخواست نہ دیں۔جب حضور خود بلائیں گے تو بنت حضرت ماسٹر چراغ دین صاحب ( مدیرہ "مصباح ) + نے حال نائب وكيل التصنيف تحریک جدید ربوه : +