تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 117
114 آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے اور دل میں قادیان پہنچنے کی خواہش مچل رہی تھی بغرض ہیں قسم کے اور بہت سے تخیلات ہمارے ذہن کو گھیرے ہوئے تھے کہ اچانک نا قابل برشات بدبو، ایسی بدبو جس سے ناک سڑنے لگے اور دماغ پھٹنے لگے محسوس ہوئی۔لاری سے باہر جو نظر پڑی تو یہ دیکھ کر روح کانپ اٹھی کہ سڑک کے دونوں اطراف کچھ فاصلہ پرکھیتوں میں انسانی لاشوں کو بڑے بڑے بد نما گدھ اور کتے نوچ رہے تھے۔اُمت ! یہ نہایت بھیانک اور تکلیف دہ منظر تھا کہ دیکھتے ہی ہم پر دہشت طاری ہو گئی اور کافی دیر تک ہم بے حس و حرکت ہو کر رہ گئے۔ابھی ہماری بدحواسی دور نہ ہونے پائی تھی کہ ہماری نظر مسلمان پناہ گزینوں کے ایک قافلہ پر پڑی جو پاکستان کی طرف بھارہا تھا۔اس جگہ کچھ وقفہ کے لئے ہمارا قافلہ رکا تاہم اپنے مظلوم اور بد نصیب بھائیوں کی خستہ حالت پر چار آنسو بہائیں۔یہ لوگ کچھ تو بیل گاڑیوں پر سوار اور کچھ پیادہ تھے۔اس قافلہ میں سب سے زیادہ دلخراش اور جب گرسوز منظر جو میں نے دیکھا وہ ایک عورت کی انتہائی بے چارگی اور مظلومیت کا تھا۔اس کو دیکھ کر میری آنکھوں سے بے تماشا آنسو ڈھلک رہے تھے۔وہ بیچاری پیدل جا رہی تھی۔اس کے پاؤں کافی متورم تھے۔پیٹ پھولا ہوا تھا چہرہ بھی سوبھا ہوا تھا۔پاؤں میں شدید درد کی وجہ سے لنگڑا رہی تھی۔درد اور کرب سے "ہائے ہائے کرتی بھا رہی تھی چند قدم چپل کر بیٹھ بھاتی اور ماتھے پر ہاتھ مار کر کہتی ہائے رہتا ! میں مری“ اور پھوٹ پھوٹ کر روتی۔اس کا رونا اس قدر دلسو نہ تھا کہ پتھر دل بھی موم ہو جاتا۔اس عورت کی یہ درد ناک حالت دیکھ کر یقین کیجئے کلیجہ پھٹنے لگا۔بیچاری جب دیکھتی کہ اس کے ساتھی کچھ دور نکل گئے تو پھر چل پڑتی لیکن با دلِ ناخواسته۔کاش اس عورت کی ہم کوئی مدد کرنے کے لائق ہوتے ! خدا خدا کر کے شام پانچ بجے ہم بٹالہ کے محدود میں داخل ہو گئے۔اس جگہ پہنچ کر قادیان دیکھنے کی آرزو پھر دل میں انگڑائیاں لینے لگی لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ تقدیر ہم پر مسکرا رہی تھی اور ہماری یہ آرزو دل ہی دل میں مرجانے والی تھی۔ابھی ہم بٹالہ شہر سے کوئی ایک میل باہر ہی تھے کہ انڈین پولیس اور ملٹری حکام نے ہمارے قافلہ کو رکنے کا حکم دیا۔فورا تعمیل ہوئی۔ہم نے بھی اس موقعہ کو غنیمت جانا اور اپنی تھکان دُور کرنے اور تازہ دم ہونے کے