تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 107 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 107

1۔6 بھائیں۔اس نے ائمہ کو اپنی برین گن سیٹ کی ، اسی طرح اس کے ایک ماتحت نے بھی سیکھوں نے جو کھیتوں کی منڈیروں کی اوٹ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک قسم کا مورچہ بنائے ہوئے تھے گولیاں چلانی شروع کر دیں مگر بخدا تعالٰی نے بچا لیا۔قافلہ کے کسی فرد پر نہ لگیں۔(1) اور الدار اور اس کے ساتھی نے فائر کرنے شروع کئے۔کہا جاتا تھا کہ نہیں بنتیں سکھ مادہ سے گئے اور باقی بھاگ گئے۔واللہ اعلم۔غرض قافلہ وہاں سے روانہ ہوا۔اور کچھ دور ہی گیا تھا کہ سامنے سے سکھوں یا ڈوگروں کی فوج کے افسر ایک بیپ میں آرہے تھے ہمیں خیال آیا کہ جب وہ سکھوں کی لاشیں دیکھیں گے تو ہمارے قافلے کا تعاقب کر کے ہمیں روک لیں گے مگر بخدا تعالیٰ نے رحم کیا اور ہم بٹالہ پہنچ گئے۔وہاں سڑک پر دیکھا کہ ایک ڈھیر لگا ہوا ہے اور اس میں سینکڑوں قرآن شریف پڑے ہوئے ہیں۔ہم نے وہاں سے چند قرآن شریف اُٹھائے۔بٹالہ میں قافلہ کو روکا گیا۔بڑی دیر میں پچھلنے کی اجازت ملی۔ہم نے خدا تعالیٰ کا شکر کیا اور روانہ ہوئے۔امرتسر پہنچے تو وہاں بڑی دیر لگی۔وہاں سے چلے تو راستہ میں کچھ بسوں میں سے ایک خراب ہو گئی۔غرض خدا خدا کر کے لاہور بارڈر پر پہنچے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا جنت میں آگئے ہیں۔رات کے دس بجے ہم جود حامل بلڈنگ پہنچے۔الحمد لله ثم الحمد لله " تقسیم ہند کے بعد بھارت اور پاکستان میں جماعت مسمی بہ منیر کی ایک خاص تینی اور روحانی جماعت تھی جس کی تمام سرگرمیاں مبلغین احمدیت کے نظام عمل پر ایک منظمہ ہمیشہ پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے وقت رہیں۔بایں ہمہ ہ مہش کی فرقہ وارانہ شورش میں براہ راست اس کا مرکز بھی انسانیت سوز اور دلدوز مظالم کا نشانہ بن گیا جس نے اس کے تبلیغی نظم ونسق کو تہ و بالا کر دیا اور اعلائے کلمتہ اللہ کی جد و جہد میں وقتی طور پر تعطل واقع ہو گیا۔تاہم یہ حالت صرف چند ماہ تک قائم رہی اور حضرت خلیفہ اسیح الثاني الصلح الموعود کی توجہ کے طفیل مبلغین کے نظام عمل میں جو بظاہر بالکل درہم برہم ہو گیا تھا، پھر سے حرکت پیدا ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے از سر نو مضبوط بنیادوں پر استوار ہو گیا۔ه اصحاب احمد " بجلد سوم طبع دوم دو سمبر (۱۹۹۹مه) صفحه ۱۱۸-۱۲۰ (از ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے) :