تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 106
شکر ادا کیا۔کیونکہ میرے ساتھ جو امانت کے ٹھونک بھا رہے تھے ان میں لاکھوں روپے کی ڈبیاں اور پارسل تھے۔کسی کے زر و جواہر، کسی کے زیورات ، کسی میں پونڈ وغیرہ۔واللہ اعلم کیا کچھ نہ تھا۔اور اگر اس افسر کو شبہ بھی ہو جاتا کہ ان ٹرنکوں میں لاکھوں کا مال ہے تو وہ ضرور روک لیتا اور ٹرنک کھلواتا اور اندر سے ہر ایک ڈبہ کھولتا تو خدا جانے وہ لالچ میں آکر کہتا کہ ہم جانے نہیں دیں گے بھارت سرکار کو رپورٹ ہو گی۔اگر سر کا رہنے اجازت دی تو یہ مال جائے گا ورنہ نہیں۔یہ ایسی مصیبت تھی جس کے تصور سے ہی میری جان پر بن بھائی تھی کہ کسی کو میری بات کا یقین کیسے آئے گا کہ یہ مال فلاں نے لے لیا ہے نہ مجھے کوئی رسید دی بجائے گی نہ کوئی اور صورت اطمینان کی ہوگی۔مگر میں اپنے خدا پر قربان جاؤں کہ حضرت خلیفہ اسیح کی تو جہ سے یہ شکل یوں محل ہوئی کہ فوجی افسر نے بغیر دیکھے ہی سمجھ لیا کہ یہ ریسرچ کا سامان ہے اور چونکہ وہ ریسرچ کے ٹرنک دیکھ کہ اطمینان کر چکا تھا کہ ان میں کتابیں ہیں اور کچھ نہیں اس لئے اس نے یہی گمان کیا کہ ان میں بھی کتابیں ہیں۔یہ کس قسم کا زمانہ تھا اور کیسی مصیبت کا وقت تھا۔جن لوگوں نے وہ مصیبت نہیں دیکھی وہ اس کا قیاس بھی نہیں کر سکتے اور میں نے چونکہ یہ نظارے دیکھے تھے اس لئے میرے دل پر یہی اثر ہے کہ یہ محض خدا کا رحم اور فضل تھا جو حضرت خلیفہ ثانی کی توجہ اور دعاؤں سے مجھ پر ہوا کیونکہ حضور چاہتے تھے کہ امانتیں لاہور پہنچ جائیں اور اس پر زور دیتے تھے۔جیسا کہ میں نے سنا ہے یہ کہتے ہوئے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت فرمائی تھی تو حضرت علی کو حکم دیا تھا کہ امانتیں بعد مدینہ بھجوائی جائیں۔یہ تڑپ تھی جو احمدیوں کا مال بیچا کہ لانے کا ذریعہ بن گئی ورنہ بظاہر مجھے کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔جب ہمارا قافلہ موضع تنتقلے کی نہر کے پل پر پہنچا تو بیس کے کلینز نے شور کرنا شروع کر دیا کہ سر نیچے کر دو، سامنے سکھ بندوقیں لے کر مورچے بنائے بیٹھے ہیں۔قریب ہے کہ قافلہ پر حملہ کر دیں ایک آفت سے تو مر مر کے ہوا تھا جینا پڑ گئی اور یہ کیسی میرے اللہ نئی ! بسیں جب پل سے پار ہوئیں تو قافلہ کے انچارج حوالدار نے حکم دیا کہ بسیں اسی جگہ مظہر