تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 103 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 103

کے مطابق ہر جگہ نہایت تیزی سے احمدیوں کو بسانے کا کام بھاری تھا۔مگر چونکہ وقت کا تقاضا تھا کہ اس کو جلد سے جعلی پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے اس لیئے حضور نے ماہ نبوت نومبر ہے بش کے آخر میں مغربی ۶۱۹۴۷ پنجاب اور صوبہ سرحد کی طرف چار ونود روانہ فرمائے۔ان وفود نے قریباً ایک ماہ تک مختلف علاقوں کا وعدہ کیا اور احباب جماعت کو جو ابھی تک ایک پراگندہ اور منتشر حالت میں مختلف مقامات پر اپنے معاشی و سائل تلاش کر رہے تھے امداد بہم پہنچائی اور جماعتوں کو توجہ دلائی کہ اپنے بہے ہیں اور منظوم پناہ گزین بھائیوں کی ہر ممکن امامت کریں۔در ماه نبوت / نومبر ریش کو حضرت سید نا المصلح الموعود نے ان وفود کے لئے از خود حلقے متعین اور فرمائے اور ہدایت فرمائی کہ ہر ضلع میں بڑے بڑے شہر مقرر کر دیئے جائیں۔مثلاً ملتان میں لودھراں کبیر والا ، منٹگمری میں اوکاڑہ اور پاک پٹن۔یہ وفد صرف شہروں میں جائیں۔شہروں کے بجٹ خود تشخیص کریں اور باقی حلقہ کے مبلغین اور سکرٹریاں وغیرہ کو ہدایات بھجوائیں کہ اس شہر میں جمع ہوں۔اس طرح باقی حلقوں کا کام ان کے سپرد کریں اور ساتھ ہی یہ رپورٹ بھی پیش کریں کہ مشرقی پنجاب کے احمدی کہاں کہاں جیسے ہیں اور کس جگہ سے آئے ہیں۔علاوہ ازیں ارشاد فرمایا کہ وفود جانے سے پہلے حضور سے ملیں اور ہدایات لے کر جائیں اور پھر وہی ہدایات اپنے بعد والوں کو دیں۔حضرت امیرالمومنین نے ان دونود کے حسب ذیل امراء و ارکان تجویز فرمائے:۔وقد قاضی محمد نذیر صاحب فاضل ( امیر وفد) ، مولوی نذیر احمد صاحب مبشر ، مولوی محمد سعید صاحب انسپکٹر بیت المال ( اس وفد نے سیالکوٹ ، گوجرانوالہ اور شیخو پورہ کے اضلاع کا دورہ کیا) و قدمت صاحبزادہ میاں عبد المنان صاحب عمر ایم اے (امیر وفہ) ، چو ہدری عبد السّلام صاحب اختر ایم۔اے ، مولوی غلام احمد صاحب فرح ، ماسٹر فقیر اللہ صاحب انسپکٹر بیت المال (یہ وفد لائل پور ، سرگودھا ، جھنگ کے اضلاع میں گیا) وقد - مولوی قمر الدین صاحب (امیروند ) ، مولوی محمد حسین صاحب، مولوی محمد احمد صاحب نعیم ( اس وفدہ کے حلقہ میں کیمبل پور، راولپنڈی جہلم اور گجرات کے اضلاع تھے) نے رپورٹ صدر نهمین احمدیہ پاکستان ۱۳۲۲۲۶ مش به