تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 102
١٠٢ غمخوار تھا۔جب وہ لوگ پراگندہ بھیڑوں کی طرح مارے مارے پھر رہے تھے ہم لوگوں کو آستانہ خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے کی وجہ سے ایک گونہ تسکین قلب حاصل تھی۔حضرت امیرالمومنین ایکہ اللہ تعالے نے اپنے غلام کی تکالیف کو دیکھا اور ان کے مصائب کو سنا اور ہر ممکن ذریعہ سے نہ صرف سلسلہ کی طرف سے بلکہ ذاتی طور بھی ان کی دلجوئی کے سامان کئے۔اپنے روح پرور کلام سے ان کی ہمتوں کو بڑھایا اور ان کے حوصلوں کو بلند کیا۔مہاجر غبار کی تن پوشی کے لئے تحریک کو کے ڈی استطاعت اور مخیر اصحاب سے کپڑے نہیا کرائے اور سلسلہ کے اموال کو بے دریغ خروج کر کے ان کو فقر و فاقہ کی حالت سے بچایا۔بیماروں کے لئے ادویات اور ڈاکٹروں کا انتظام کر لیا اور لاہور سے باہر جا کہ آباد ہونے والوں کے لئے حسب ضرورت زاد راہ کرایا جیتا گیا اور ان کے گزاروں کے لئے ہر اخلاقی اور مالی امداد فرمائی۔موسم سرما میں کام آنے والے پارچات نہیا کرائے بفرض ہزاروں لاکھوں برکات اور افضال نازل ہوں اس محبوب اور مقدس آقا پر میں نے ایسے روح فرسا حالات میں اپنے خدام کی دستگیری فرمائی ہمارے دل حضور کے لئے شکر و امتنان کے جذبات سے معمور ہیں لیکن ہماری زبانیں ان جذبات کے اظہار سے عامیہ ہیں۔“ اگر چه سید نا حضرت امیر المومنین احمدی مہاجرین کے معاشی تنظیمی مسائل کرنے کیلئے اور اصلی وجود کی بات ماشا ما صد را امین احمدیہ پاکستان کی پہلی سالانہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ یکم انار اکتوبر کہیں سے سیمنٹ بلڈنگ لاہور میں ایک مختصر سی ڈسپنسری کی صورت میں نور ہسپتال کا اخبار عمل میں آیا جو لاہور میں شہادت اپریل پیش تک متر آؤٹ ڈور ڈسپنسری کے طور پر پھلتا رہا۔اگر ہے ان ڈور مریضوں کے لئے کوئی انتظام ممکن نہ تھا تا ہم رتن باغ ، جود عامل بلڈنگ، سیمنٹ بلڈنگ اور ہم میکلوڈ روڈمیں جو احمدی اور کارکنان سلسلہ مقیم تھے ان میں سے اگر کوئی زیادہ بیمار ہوتا تو ہسپتال کے فرض شناس کارکن ان کے گھر پہ جاکر باقاعدہ علاج معالجہ کیا کرتے۔علاوہ ازیں لاہور کے مختلف محلوں کی کثیر تعداد بلکہ بیرون شہر کے بعض دوستوں کو بھی ہسپتال سے استفادہ کے مواقع میسر آئے۔در پورٹ سالانہ صدر انجین احمدیہ پاکستان ۲۳ ۱۳۳ مش صفحه ۴۳) سالانه بیایی کے رپورٹ سالانہ صدر امین احمدیہ پاکستان ۳۳۳۳ مش صفحه ۹۵۰