تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 78
LA کیا ہم یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ لاہور، پشاور ، دہلی ، علیگڑھے کے اسلامی ادارے بھی وقت کی اس اہم ضرورت کی طرف توجہ کریں گے " لئے کے - ہندوستان کے انگریزی روز نامہ سٹیٹمین" نے لکھا :- قادیان میں فضل محمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح اس کی مقامی اہمیت سے بہت زیادہ بیرو نجات پر اثر انداز ہے۔جماعت احمدیہ کا یہ اقدام مذہب و سائنس کو متحد کرنے کی کوشش کا کامیاب مظاہرہ ہے۔احمدی بیشک تعداد میں تھوڑے ہیں لیکن جماعتی لحاظ سے اس طرح منظم ہیں کہ بہت سے شعبہ ہائے زندگی میں وہ بڑی تیز رفتاری سے شاہراہ ترقی پر گامزن ہوا ہے ہیں۔قادیان کے احمدیوں میں صنعت و حرفت کی ترغیب و ترویج کے لئے انہوں نے بہت کوشش کی ہے اور بہت سی مفید باتوں میں وہ دوسروں سے پیش پیش ہیں۔اُن کا یہ تازہ شاہرکارہ اس ترقی کی روح کا آئینہ دار ہے (ترجمہ) ہے دنیا ئے سائنس کے مشہور ہفتہ وار رسالہ نیچر NATURE نے بولندن سے نکلتا ہے ، ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح کی تفصیلی خبر دیتے ہوئے لکھا :- " مشرق و مغرب دونوں بگه از مته گذشتہ سے ہی علم کی ترقی مذہبی جماعتوں کی مرمت وت رہی ہے مستقبل میں ہندوستان میں سائنس کو جو اہمیت حاصل ہوگی اس کے احساس کی نمایاں علامت اس فیصلہ سے ظاہر ہوتی ہے جو امام جماعت احمدیہ خلیفہ اسیح (حضرت خلیفة اسم الصلح الموعوش نے اپنی جماعت کے چندوں میں سے ایک کثیر رقم سائنس کے تحقیقاتی اداروں کے قیام کے لئے منظور فرما کہ کیا ہے۔یہ جماعت پہلے ہی بہت تعلیمی اداروں کو چلا رہی ہے جن میں تعلیم الاسلام کا بچے بھی شامل ہے۔مگر اب (حضرت) امام (جماعت احمدیہ) کا خیال ہے کہ وہ وقت آگیا ہے جبکہ ان اداروں کو بام عروج تک پہنچایا جائے۔یہ نیا تحقیقاتی ادارہ فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قادیان اُس وقت جنم لے رہا ہے جبکہ ہندوستان میں تحر یک اخبار سائنس زوروں پر ہے اور پرائیویٹ اداروں نے بھی اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے اپنا حصہ ادا کرتا ہے (ترجمہ سمجھے " ن انقلاب" لاہور ۲۰ اپریل ۹۲۶ارد مجاله " الفضل " ۲۵ اپریل ۱۹۴۶ له بحواله " الفصل ۱۵ مئی ۲۷ * * سے بحوالہ ہے ۲۶ جولائی دا