تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 77
46 ا چنانچہ شمالی ہند کے مشہور مسلمان اخبار انقلاب نے لکھا :- اس وقت علمی و صنعتی دائرے میں مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ سائنٹفک تحقیقات کے ادارے قائم کئے جائیں جن میں نوجوان سائنس کے جدید ترین آلات اور بہترین ٹیکنیکل کتابوں اور فاضل اور تجربہ کار معلموں کی مدد سے اسرار قدرت کا علم حاصل کریں اور صنعت و حرفت کے جدید اور وسیع دوائر میں کام کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔یہی طریقہ ہے جس سے کام لیکر ملت میں وہ قوت و صلاحیت پیدا کی جاسکتی ہے جو آج دنیا کی بڑی بڑی قوموں کو حاصل ہو چکی ہے اور جس کے بغیر کہ ور تو میں مادی ترقی کے میدان میں ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتیں۔قادیان نے اس سلسلہ میں سبقت کی ہے۔امام جماعت احمدیہ نے ڈھائی لاکھ روپیہ کے ابتدائی سرمایہ سے فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کی اجازت دے دی ہے جس کا افتتاح گذشتہ جمعہ کے دن مشہور سائنسدان ڈاکٹر سر شانتی سروپ بھٹنا گرنے بمقام قادیان فرمایا۔اس انسٹی ٹیوٹ کی لیبارٹریوں میں بہترین اور جدید آلات مہیا کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔بایو کیمیکل ریسرچ کے لئے الیکٹرون ، خوردبین ، پروٹین اور کولائیڈ بجنزر کے خواص کی تحقیق کے لئے خاص آلہ تحلیل و تجزیہ کی عملیات کے لئے سیکٹو گراف اور دوسرے آلات منگائے بھا رہے ہیں۔جن کی مدد سے صنعتوں کی ترقی و توسیع کا کام اعلیٰ پیمانے پر کیا جائے گا۔اس وقت کچھ اسیر بچ اسسٹنٹ کام کر رہے ہیں۔دو فارغ التحصیل نوجوانوں کو کیمیکل انجنیئرنگ وغیرہ کی اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھیجا جا رہا ہے۔ہندوستان کی یونیورسٹیوں کے طلبہ سائنس کے لئے بھی انسٹی ٹیوٹ میں ٹیکنیکل ٹریننگ کا بندوبست کیا بھارہا ہے۔یہ ہے وہ حقیقی کام جس کی ضرورت مسلمانوں کو شدت سے محسوس ہو رہی ہے لیکن اب تک ان کے کسی تعلیمی ادارے ہیں اس کام کی طرف کما حقہ توجہ نہیں کی گئی۔اگر قادیانیوں کو برا بھلا کہنے والوں کو اس جہاد لسانی کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کے تعمیری کاموں میں مسابقت کی توفیق بھی ملتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ہمیں یقین ہے کہ مرزا محمود احمد صاحب کی توجہ اور ان کے بھانشاروں کی محنت سے یہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بہت جلد بے انتہا کام کرنے لگے گا۔