تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 765 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 765

دراما گیارہ سے مراد گیارہ بجے ہوں اور یہ انتظام گیارہ بجے کے بعد ہو میاں بشیر احمد صاحب جن کے سپردان ونوں ایسے انتظام تھے۔اُن کے بار بار پیغام آتے تھے کہ سب انتظام رہ گئے ہیں اور کسی میں بھی کامیابی نہیں ہوئی ہیں نے انہیں فون کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام بعد گیارہ سے ہی سمجھتا ہوں کہ گیارہ بجے کے بعد کوئی انتظام ہو سکے گا۔پہلے میں سمجھتا تھا کہ اس سے گیارہ تاریخ مراد ہے لیکن اب میرا خیال ہے کہ شاید اس سے مراد گیارہ بجے کا وقت ہے۔میرے لڑکے ناصر احمد نے بھی جس کے سپرد باہر کا انتظام تھا مجھے فون کیا کہ تمام انتظامات فیل ہو گئے ہیں۔ایک بدھ فوجی افسر نے کہا تھا کہ خواہ مجھے سزا ہو جائے میں ضرور کوئی نہ کوئی انتظام کروں گا اور اپنی کار و ساتھ روانہ کروں گا لیکن عین وقت پر اسے بھی کہیں اور جگہ جانے کا آرڈر آگیا اور اس نے کہا ئیں اب مجبور ہوں اور کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتا۔آخر گیارہ بیچ کر پانچ منٹ پر میں نے فون اٹھایا اور چاہا کہ ناصر احمد کو فون کروں کہ ناصر احمد نے کہا کہ میں فون کرنے ہی والا تھا کہ کیپشن عطاءاللہ یہاں پہنچ چکے ہیں اور گاڑیاں بھی آگئی ہیں چنانچہ ہم کیسین عطاء اللہ صاحب کی گاڑیوں میں قادیان سے لاہور پہنچے۔یہاں پہنچ کر میں نے پورے طور پرمحسوس کیا کہ میرے سامنے ایک درخت کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا نہیں بلکہ ایک باغ کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا ہے ہمیں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ فوراً ایک نیا مرکز بنایا جائے اور مرکزی دفاتر بھی بنائے جائیں لے سید نا حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود کی ہجرت کے بعد کس طرح انتہائی زہرہ گداز اور جگہ پاش حالات میں قادیان کے مخلص احمدیوں اور جانفروش درویشوں نے مشرقی پنجاب بلکہ پورے ہندوستان میں اسلام کا جھنڈا بلند رکھا۔نیز پاکستان میں خدا تعالیٰ کے پاک دعدوں اور بشارتوں کے عین مطابق اس کے اولو العزم اور مقدس خلیفہ مولود کے مبارک ہاتھوں سے نئے سرے سے احمدیت کا باغ لگایا گیا یعنی ربوہ جی ما نگیر شہرت کا حال مثالی اور شاندار مرکز تعمیر ہوا، او طیور ابراہیمی آسانی قرار کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دوبارہ جمع کو گئے؟ اللہ سب ایمان افروز واقعات کی تفصیل انشاء اللہ العزیز و توفیقہ تعالئے اگلی جلد میں آئے گی الفضل ۳۱ وفا جوائی بیش صفحه ۵-۶- +