تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 764
کام ہے لئے فوراً کوشش کرنی چاہیئے ورنہ قادیان سے نکلنا محال ہو جائے گا اور اس کام میں کامیابی نہیں ہوسکیگی ان لوگوں کے مخالفانہ ارادوں کا اس سے پتہ چل سکتا ہے کہ ایک انگریز کوئی جو بٹالہ گا ہوا تھا میرے پاس آیا اور اس نے کہا مجھے ان لوگوں کے منصوبوں کا علم ہے جو کچھ یہ اسر اگست کے بعد مسلمانوں کے ساتھ کریں گے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔یہ باتیں کرتے وقت اس پر رقت طاری ہو گئی لیکن اس نے جذبات کو دبا لیا اور منہ ایک طرف پھیر لیا جب میں نے دیکھا کہ گاڑی وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں کی سکتا اور میں سوچ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام" بعد گیارہ سے کیا مراد ہے تو مجھے میاں بشیر احمد صاحب کا پیغام ملا کہ میجر جنرل نذیر احمد صاحب کے بھائی میجر بشیر احمد صاحب ملنے کے لئے آئے ہیں۔دراصل یہ ان کی غلطی تھی وہ میجر بشیر احمد صاحب نہیں تھے بلکہ ان کے دوسرے بھائی کیپٹن عطاء اللہ صاحب تھے جب وہ ملاقات کے لئے آئے تو میں حیران تھا کہ یہ تو میجر بشیر احہ نہیں اُن کے چہرے پر تو پیچک کے داغ ہیں مگر چونکہ مجھے ان کا نام میجر بشیر احمد ہی بنایا گیا تھا اس لئے میں نے دورانِ گفتگو میں جب انہیں میجر کہا تو انہوں نے کہا میں میجر نہیں ہوں کیپٹن ہوں اور میرا نام بشیر احمد نہیں بلکہ عطاء اللہ ہے کیپٹن عطاء اللہ صاحب کے متعلق پہلے سے میرا یہ خیال تھا کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں سے زیادہ مخلص ہیں اور یک سمجھتا تھا کہ اگر ندمت کا موقعہ مل سکتا ہے تو اپنے بھائیوں میں سے یہی اس کے سب سے زیادہ تحق ہیں۔میں نے انہیں حالات بتائے اور کہا کہ کیا وہ سواری اور حفاظت کا کوئی انتظام کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں آج ہی واپس جا کر کوشش کرتا ہوں۔ایک جیب میجر جنرل نذیر احمد کو لی ہوئی ہے اگر وہ مل سکی تو دو اور کا انتظام کر کے میں آؤں گا کیونکہ تین گاڑیوں کے بغیر پوری طرح حفاظت کا ذمہ نہیں لیا جا سکتا کیونکہ ایک جیپ خواب بھی ہو سکتی ہے اور اس پر حملہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ضرورت ہے کہ تین گاڑیاں ہوں تا سب خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔یہ باتیں کر کے وہ واپس لاہور گئے اور گاڑی کے لئے کوشش کی۔مگر میجر جنرل نذیر احمد صاحب کی جیپ انہیں نہ مل سکی۔وہ خود کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔آخر انہوں نے نواب محمد دین صاحب مرحوم کی کار لی اور عزیز منصور احمد کی جیپ اسی طرح بعض اور دوستوں کی کاریں حاصل کیں اور قادیان چل پڑے۔دوسرے دن ہم نے اپنی طرف سے ایک اور انتظام کرنے کی بھی کوشش کی اور چاہا کہ ایک احمدی کی معرفت کچھ گاڑیاں مل جائیں۔اس دوست کا وعدہ تھا کہ وہ ملٹری کو ساتھ لے کر آٹھ نو بجے قادیان پہنچ جائیں گے لیکن وہ نہ پہنچ سکے یہانتک کہ دس بج گئے۔اس وقت مجھے یہ خیال آیا کہ شاید