تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 761 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 761

تمام کا مرزا بشیر احمد صاحب کو اپنا قائمقام ضلع گورداسپور اور قادیان کے لئے مقررکرتا ہوں۔ان کی فرمان برداری اور اطاعت کرو اور ان کے ہر حکم پر اس طرح قربانی کو جس طرح محمد رسول الله صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَاعَى وَ منْ عَلی امیری فَقَدْ عَصَانِی یعنی جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔پس جو اُن کی اطاعت کرے گا وہ میری اطاعت کرے گا۔اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کرے گا وہ رسول کریم صلے اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی اطات کرے گا اور وہی مومن کہلا سکتا ہے دوسرا نہیں۔اے عزیز و ! احمدیت کی آزمائش کا وقت اب آئے گا اور اب معلوم ہوگا کہ ستیا مومن کونسا ہے نہیں اپنے ایمانوں کا ایسا نمونہ دکھاؤ کہ پہلی قوموں کی گرہیں تمہارے سامنے جھک جائیں اور آئندہ نسلیں تم پر فخر کریں۔شاید مجھے تسلیم کی غرض سے کچھ اور آدمی قادیان سے باہر بھجوانے پڑیں مگر وہ میرے خاندان میں سے نہ ہوں گے بلکہ علماء سے ہوں گے۔اس سے پہلے بھی میں کچھ علماء باہر بھجوا چکا ہوں۔تم ان پر باطنی نہ کردہ بھی تمہاری طرح اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں لیکن خلیفہ وقت کا حکم انہیں مجبور کر کے لے گیا۔پس وہ تو اب میں بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں اور قربانی میں بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں۔یہاں وہ لوگ جو آنوں بہانوں سے اجازت لے کر بھاگنا چاہتے ہیں وہ یقیناً کمزور ہیں۔خدا تعالیٰ اُن کے گناہ بجتے اور نیچے ایمان کی حالت میں جان دینے کی توفیق دے۔اسے عزیز و ! اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہر وقت تمہارے ساتھ رہے اور مجھے جب تک زندہ ہوں سچے طور پر اور اخلاص سے تمہاری خدمت کی توفیق بخشے اور تم کو مومنوں والے انقلاص اور بہادری سے میری رفاقت کی توفیق بخشے۔خدا تعالے تمہارے ساتھ ہو اور آسمان کی آنکھ تم میں سے ہر مرد ہر عورت اور ہر بچہ کو سچا مخلص دیکھے اور خدا تعالیٰ میری اولاد کو بھی اخلاص اور بہادری سے سلسلہ کی خدمت کرنے کی توفیق بخشے۔والسلام " الفضل" در احسان /جون خاکسایی (دستخط حضرت مرزا محمود احمد خلیفة السيح ٣٠