تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 746 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 746

۷۲۹ بے بسی کی ہے کیونکہ مڑی اور پولیس کا رویہ خطرناک ہو رہا ہے گو ظا ہرا نہیں۔اس وقت پیر احسن الدین پر زور دیں کہ ایک ریفیوجی سنٹر قاریان بھی کھلوا دیں۔جہاں چھ ہزار سے زائد پناہ گزین ہو چکا ہے اور اور لوگ آرہے ہیں۔اس طرح یہاں مسلمان ملٹری اور ایک مسلمان افسر رہ سکے گا۔جبکہ گورنمنٹ خود مخالفت کر رہی ہے لیکن سوچ رہا ہوں کہ آیا مقامات سے زیادہ آدمیوں کی حفاظت کی ضرورت نہیں ، حضرت صاحب کا ایک الہام بھی ہے کہ يَأْتِي عَلَيْكَ زَمَن كَمَثلِ زَمَن مُوسی یعنی موسی کی طرح تجھ پر بھی ایک زمانہ آنے والا ہے۔سوممکن ہے عارضی ہجرت اس سے مراد ہو۔لیکن اب تک تو کنوائے ہی نہیں آیا۔حالانکہ کل اطلاع آئی تھی کہ آرہا ہے بٹالہ سے ہزاروں کی تعداد میں عورتیں بچے نکالے جار ہے ہیں۔پیر احسن الدین صاحب کو کہہ کر کنوائیز کا انتظام کروا دیں تو قادیان سے بھی عورتوں بچوں کو نکلوا دیا جائے مگر نارووال کی فطرت ہے ۲۵ ظہور / اگست ہش کو جماعت جماعت احمدیہ کے ہوائی جہازوں پر پابندی احمدیہ کے دونوں جہازوں کا قادیان میں آنا جانا ممنوع قرار دیا گیا جو قادیان اور پاکستان سے رابطہ کا واحد ذریعہ تھے۔حترام المومنین اور خواتین مبارکہ کی حالت جو کہ بندہ بنا تشویشناک ہو رہے تھے اور صاف نظر آیا تھا کہ دشمن عنقریب قادیان پر حملہ کرنے کا مصمم ارادہ پاکستان میں تشریف آوری کرچکا ہے۔اس لئے حضرت سیدنا المصلح الموعود نے صحابہ 314772 میں موجود سے مشورہ طلب کیا کہ حضرت ام المومنین اور خاندان میں موجود کی دوسری مبارک خواتین کو پاکستان میں بھیجوانا مناسب ہے یا نہیں ؟ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ۲۳ ظہور / اگست ہش کو حضر مصلح موعود کی خدمت میں لکھا:۔حضرت ام المومنین اور خواتین مبارکہ کے کسی محفوظ مقام پر پہنچانے کے لئے میں نے اپنے محله ( دارالرحمت) کے ۲۴ صحابہ سے اپنی طرف سے تجویز پیش کر کے آج بعد نماز ظہر مشورہ کیا تھا۔ان سب نے باتفاق یہی مشورہ دیا کہ حضرت سیدۃ النساء اور خواتین مبارکہ کو کسی محفوظ جگہ پہنچانا مناسب ہے۔میرا ارادہ تھا کہ اس مشورہ کے بعد دوسرے اشخاص سے بھی مشورہ کروں لیکن بھائی عبدالرحیم صاحب نے فرمایا کہ میرا مشورہ یہ ہے کہ اس کے متعلق مشورہ کی بجائے