تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 734
کے اندرہی ترقی کیا کرتے ہیں اور اللہ تعالے کی جماعت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ ان آندھیوں اور طوفانوں کو صبر سے برداشت کرے اور کبھی ہمت نہ ہارے جیس کام کے لئے انہی جماعت کھڑی ہوتی ہے وہ کام خدا تعالے کا ہوتا ہے بندوں کا نہیں ہوتا۔پس وہ آندھیاں اور طوفان جو بظاہر اس کام پر چلتے نظر آتے ہیں در حقیقت وہ بندوں پر چل رہے ہوتے ہیں اس کام پر نہیں پھیل رہے ہوتے اور یہ محض نظر کا دھوکہ ہوتا ہے۔جیسے تم نے ریل کے سفر میں دیکھا ہوگا کہ چل تو ریل رہی ہوتی ہے مگر تمہیں نظر یہ آتا ہے کہ درخت چل رہے ہیں۔اسی طرح جب آندھیاں اور طوفان انہی مسلسلوں پر آتے ہیں تو جماعتیں یہ خیال کرتی ہیں کہ یہ آندھیاں اور طوفان ہم یہ نہیں بلکہ سلسلہ پر چل رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ سلسلہ پر نہیں رہے ہوتے بلکہ افراد پر آرہے ہوتے ہیں۔اُن افراد پر جو اس سلسلہ پر ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔ان آندھیوں اور طوفانوں کو بھیج کر اللہ تعالے مومنوں کے ایمان کا امتحان لیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے کلام اور خدا تعالے کی بھیجی ہوئی تعلیم کا امتحان لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ امتحان تو انسانوں کا لیا جاتا ہے۔پس یہ آندھیاں اور یہ طوفان انسانوں پر آتے ہیں مگر انسان کم عقلی سے یہ سمجھتا ہے کہ کسی اور پر آرہے ہیں اور وہ طوفان جو اس کو ہلا رہے ہوتے ہیں ان کے تعلق وہ یہ خیال کرتا ہے کہ یہ خدائی سلسلہ کو ہلا رہے ہیں۔پس ہماری جماعت کو ہمیشہ یادرکھنا چاہیے کہ وہ پودا جو خدا تعالیٰ نے لگایا ہے وہ بڑھے گا، پچھلے گا اور پھولے گا اور اس کو کوئی آندھی تباہ نہیں کر سکتی۔ہاں ہماری غفلتوں یا ہماری سمستیوں یا ہماری لغزشوں کی وجہ سے اگر کوئی ٹھو کر آ جائے تو وہ ہمارے لئے ہوگی سلسلہ کے لئے نہیں ہوگی۔جب ہم اپنے توازن کو درست کر لیں گے اور اپنے ایمانوں کو مضبوط کر لیں گے تو وہ حوادث نخود بخود دور ہوتے چلے جائیں گے بلکہ وہ حوادث ہمارے لئے رحمت اور برکت کا موجب بن جائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے ہجرت کی تو لوگوں نے سمجھا کہ ہم نے ان کے کام کا خاتمہ کر دیا ہے اور یہ حادثہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے لئے زبردست حادثہ ہے لیکن جس کو لوگ حادثہ سمجھتے تھے کیا وہ حادثہ ثابت ہوا یا برکت و دنیا بھالتی ہے کہ ليه