تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 710
۱۹۳ اس بات کو شنا تو انہوں نے کہا کہ واقعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں کمی کی گئی ہے اور ہم سے چوک ہوئی ہے لیکن اس دن سے لے کر وفات تک مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہمیشہ ہی صحیح مقام بیان کرتے تھے اور آپ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام بیان کرتے تو آپ کی طبیعت میں ایک خاص قسم کا جوش پیدا ہو جاتا تھا یہاں تک کہ اُن کی آخری ملاقات جس کو آٹھ دس دن ہوئے ہیں مجھ سے اس سلسلہ میں ہوئی تو مولوی صاحب نے مجھے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں کمی کی جاتی ہے اور آپ کو صرف میں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔حالانکہ مہدی کی شان مسیح کی شان سے کہیں بلند ہے جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے اس کا ذکر کئی جگہ اپنی کتب میں کیا ہے۔صرف مسیح موعود لکھنے کا کہیں یہ نتیجہ نہ ہو کہ آہستہ آہستہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حقیقی مقام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائے میں نے مولوی صب کو کہا کہ آپ یہ بات مجھے لکھ کر بھیج دیں میں اس پر غور کروں گا۔چنانچہ اس کے تیسرے یا چوتھے دن مولوی صاحب کی طرف سے ایک تحریر اسی مضمون کی مجھے مل گئی۔گویا مولوی صاحب کو اپنی وفات کے قریب بھی یہی فکر رہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں کہیں کمی نہ ہو جائے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے میں مولوی صاحب کا شاگرد رہا ہوں۔عمر کے لحاظ سے مولوی صاحب مجھے سے بہت بڑے تھے اور میں ان سے بہت چھوٹا تھا۔لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ با وجود اس کے کہ وہ میرے اُستاد تھے، باوجود اس کے کہ وہ عمر میں مجھ سے بڑے تھے ، با وجود اس کے کہ وہ مدرسی تعلیم میں بہت زیادہ دسترس رکھتے تھے میں نے اکثر دیکھا کہ مولوی صاحب کا غذ پنسل لے کر بیٹھتے تھے اور باقاعدہ میرا لیکچر نوٹ کرتے رہتے تھے۔ان میں محنت کی اتنی عادت تھی کہ میں نے جماعت کے اور کسی شخص میں نہیں دیکھی۔اگر مجھے کسی کی محنت پر رشک آتا تھا تو وہ مولوی صاحب ہی تھے۔بسا اوقات میں بیماری کی وجہ سے باہر نماز کے لئے نہیں آسکتا تھا اور اندر بیٹھ کر نماز پڑھنا شروع کر دیتا تھا۔لیکن مسجد سے مولوی صاحب کی قرات کی آواز کانوں میں آتی تو میرا نفس مجھے ملامت کرتا کہ میں جو عمر میں ان سے بہت چھوٹا ہوں نہیں توگھر میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہوں اور یہ اسی سال کا بڑھا مسجد میں نماز پڑھا رہا ہے۔میرے زمانہ خلافت میں میری جگہ اکثر مولود بعضا ہی نماز پڑھاتے تھے۔صرف آخری سال سے میں نے ان کو نماز پڑھانے سے روک دیا تھا کیونکہ