تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 702 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 702

۶۸۶ کرنے کے لئے آئے اور بیتاب ہو گئے لیے حضرت سیٹھ صاحب نے اپنے ایمان کی ترقی اور اس متاع گم گشتہ کو پانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہلبیت خصوصاً حضرت مصلح موعود سے محبت و اخلاص اور فدائیت و شیدائیت میں یہانتک ترقی کی اور اپنے مخلصانہ تعلق کو اس قدر بڑھایا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود اور دوسرے افراد خاندان مسیح محمدی علیہ السلام نے انہیں اپنے خاندان ہی کا فرد سمجھا اور بارہا اپنی تقریروں اور مختلف تقریبوں میں اس کا اظہار بھی فرمایا۔حضرت مصلح موعود نے کم شہادت / اپریل پر ہی کو نماز جمعہ کے بعد آپ کا جنازہ غائب پڑھایا اور خطبہ ثانیہ میں آپ کی نسبت فرمایا :- ۶۱۹۴ محضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں میری ان سے واقفیت ہوئی اور میں جب حج کے لئے گیا تو میں نے ان کو بھیٹی میں دیکھا کہ اس وقت انہوں نے ایسے اخلاص اور محبت کا ثبوت دیا کہ اس وقت سے اُن کے تعلقات میرے ساتھ خانہ واحد کے تعلقات ہو گئے میں اپنے سامان کی تیاری کے لئے جہاں جاتا وہ سائے کی طرح میرے ساتھ لگے رہتے اور جہاز تک انہوں نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔اُن کا اخلاص اتنا گہرا تھا۔کہ عبدالحي صاحب عربے زمین کو میں اپنے ساتھ بطور سا تھی لے گیا تھا، ایک دفعہ پانی پینے کے لئے ایک خوبصورت گلاس نکالا۔میں نے اُن سے پوچھا کہ یہ پہلے تو آپ کے پاس نہیں تھا اب آپ نے کہاں سے لیا ہے۔تو انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے سیٹھ صاحب نے لے کر دیا تھا کہ سب اس میں پانی پیو گے تو میں یاد آجاؤں گا اس وقت ان کو میرے لئے دعا کے لئے یاد کرا دینا۔دوسری دفعہ جب میں بمبئی گیا تو سیٹھ صاحب پھر حیدر آباد سے بیٹی پہنچ گئے حالانکہ حیدر آباد سے بیٹی یارہ چودہ گھنٹے کا راستہ ہے لیکن پتہ چلتے ہی فوراً وہاں پہنچ گئے اور آخر دن تک ساتھ رہے بلکہ مجھے اُن کا ایک لطیفہ اب تک یاد ہے۔وہ ایسے ساتھ ہو لئے کہ ان کا ساتھ دینا گراں گزرنے لگا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم جہاں بجاتے کھانے کا وقت آتا وہ اسی جگہ کسی اچھے سے ہوٹل میں تمام قافلہ له الفضل دار شہادت اپریل و هر وفا جولائی در پیش مضمون حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) * که ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد ہشتم صفحه ۶۱۹ و تاریخ احمدیت جلد نهم صفحه ۲۴۲ به