تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 691
YLA رچرڈ بیل رچہ ڈھیل نے لکھا وہ زبان کے لحاظ سے اس کی انگریزی نقائص سے پاک ہے اور جماعت کی غلطیاں غیر معمولی طور پر کم ہیں۔یہ امر ظاہر ہے کہ میں حد تک مکن ہوتا تھا قرآن کو کل طور پر پیش کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا۔یقین قرآنی تعلیمات کو است کے ساتھ پیش کرنے کا یہ انداز بھرت کا حامل اور ہر طرح تحسین کے قابل ہے۔اگر انجمن اقوام متحدہ اسمیں بیان کردہ اصولوں پر عمل پیرا ہو سکے تو یقینا کسی حد تک وہ اپنا کھویا ہوا وقار بارڈ پر حاصل کر سکتی ہے۔تغیر جامع ہے اور بہت حد تک روحانی اقدار اور ان کی احسن تقسیم کی آئینہ دار ہے اگر چہ بعض تفصیلات ایسی ہیں کہ مین کے بارے میں اختلافی بحث کا دروازہ کھل سکتا ہے تاہم اس امر کا اعتراف نہ کرنا احسان ناشناسی ہوگی کہ ایک عظیم اور قابل تحسین کوشش کا یہ پہلا ثمرہ ہے جو ہمیں (اس ترجمہ اور تفسیر کی شکل میں) میسر آیا ہے۔یہ کوشش مصنفین کے حق میں بلا شبہ ایک محبت آمیز شفقت کا درجہ رکھتی ہے۔قرآنی تعلیمات کو ایک ایسی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کہ جو موجودہ زمانہ کی ضروریات کے مناسب حال ہو روحانی نے ندگی اور تبلیغی جد و جہد کی آئینہ دار ہے اور مجموعی لحاظ سے روشن خیالی اور ترقی پسندی پر دلالت کرتی ہے۔ریمیں بلا شہر پرو فیسر ادبیات عربی مدرسه السنه ریمیں بلا شہر پروفیسر ادبیات عربی شرقیہ پیرس نے صدر جہ ذیل الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا : یہ ترجمہ جیسا کہ فرانسیسی زبان کی ایک مثال ہے۔متن کا ہو بہوچہ یہ ہے “۔ترجمہ کی یہ صحت جس سے قرآن کے بہم اور مشکل مقامات کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔تعریف سے بالا ہے۔اس ترجمہ کے بارے میں یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ اس سے قبل قرآن کریم کے یورپی زبانوں میں جس قدر تراجم ہوئے ہیں وہ اس اہتمام سے عاری ہیں کہ وہ لوگ بھی جو عربی متن کے ظاہری اور بالینی مطالب سے نابلد ہوں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ہماری یہ خواہش ہے کہ ایسی کتاب (تفسیر ا جو یورپ میں صحیفہ اسلام کو مقبول بنانے میں تاریخی حیثیت اختیار کرے گی جلد سے جلد پایہ تکمیل کو پہنچے شامی پریس او را کا بر مشق کا خراج تحسین مشہور سی اخبار الشخص نے لکھا کہ جماعت احمدیہ نے امریکہ اور یورپ کے بڑا معمول میں ثقافت اسلامیہ کا اشاعت کا نمایاں کام کیا ہے اور یہ کام لگاتار مبلغین کی روانگی سے