تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 52
۵۲ سائنس اور دُنیا کا کوئی حساب انہیں اس عقیدہ سے منحرف نہ کر سکے تو ہم سمجھیں گے کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔چونکہ اب شام ہوگئی ہے اس لئے میں اب اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔لیکن میں آخر میں یہ اضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہماری نیت یہ ہے کہ جلد سے جلد اس کالج کو نبی۔اسے بلکہ ایم۔اے تک کوی۔پہنچا دیں۔اس لئے کالج کے جو پروفیسر مقرر ہوئے ہیں انہیں اپنی تعلیمی قابلیت کو بھی بڑھانے کا فکر کرنا چاہیے اور آئندہ ضروریات کے لئے انہیں ابھی سے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے تا کہ جب پڑی کلا سر کھولی جائیں تو قواعد کے لحاظ سے اور ضرورت کے لحاظ سے اور تجربہ کے لحاظ سے وہ ان کا سر کو تعلیم دینے کے لئے موزوں ہوں اور اس کام کے اہل ہوں۔اور چونکہ ہمارا منشار آگئے بڑھنے کا ہے، اس لئے جہاں کالج کے پروفیسروں کو اپنا تعلیمی معیار بلند کرنا چاہیئے اور اپنے اندر موجودہ قابلیت سے بہت زیادہ قابلیت پیدا کرنی چاہئیے وہاں انہیں یہ امر بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ جب کالج میں وسعت ہو تو جو اچھے اور ہونہار طالب علم ہوں اور دین کا جوش اپنے اندر رکھتے ہوں ان کو اس قابل بنائیں کہ وہ اسلئے نمبروں پر پاس ہوں اور ساتھ ہی ان کے دینی ہوش میں توقی ہوتا کہ جب وہ تعلیم سے فارغ ہوں تو وہ صرف دنیا کماتے ہیں یہی نہ لگ جائیں بلکہ اس کا لچ میں چند نفیسر با لیکچرار کا کام کر کے سلسلہ کی خدمت کر سکیں۔میں ایک طرف وہ اعلیٰ درجہ کے زمین اور ہوشیار لڑکوں کے متعلق یہ کوشش کریں کہ وہ اچھے نمبروں پر کامیاب ہوں اور دوسری طرف انہیں اس امر کی طرف توجہ دلائیں کہ جب وہ اپنے تعلیمی مقصد کو حاصل کر لیں تو اس کے بعد اپنی محنت اور دماغی کاوش کا بہترین بدلہ بجائے سونے چاندی کی صورت میں حاصل کرنے کے اس رنگ میں حاصل کریں کہ اپنے آپ کو ملک اور قوم کی خدمت کے لئے وقف کر دیں، اس کے بغیر کالج کا عملہ مکمل نہیں ہو سکتا۔میں ایک طرف ہمارے پر وفیسر خود علم بڑھ جانے کی کوشش کریں اور دوسری طرف آئندہ یہ وفیسروں کے لئے ابھی سے سامان پیدا کرنے شروع کر ، اور نوجوانوں سے کہیں کہ وہ قوم کی خدمت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔پھر خواہ انہیں کالج میں رکھ لیا جائے یا سلسلہ کے کسی اور کام پر لگایا جائے۔بہر حال ان کا وجود مفید ثابت ہو سکتا ہے۔سکول میں میں نے