تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 51
۵۱ کو مٹاتے ہیں۔اگر ہم خدا تعالے کی بستی کا یقین لڑکوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں۔اگر ہم بعد اتعالیٰ کی محبت کا درس ان کو دیتے ہیں تو اُن کے ماں باپ یہ شنکر برا نہیں منائیں گے تاکہ خوش ہوں گے کہ ہمارے لڑکے ایسی جگہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جہاں دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی مذایبی لحاظ سے بھی تربیت کی جارہی ہے۔پس جہانتک توحید کے قیام کا سوال ہے ، یہانتک غریب کی عظمت کا سوال ہے، جہانتک خدا تعالے کی محبت کا سوال ہے مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی سب اس بات کا تو رکھتے ہیں کہ انکو یہ تعلیم دی جائے کیونکہ ان کا اپنا مذ ہب بھی یہی باتیں سکھاتا ہے میرے نزدیک ہمیں ان باتوں پر اس قدر زور دینا چاہیئے کہ ہمارے کالج کا یہ ایک امتیازی نشان بن جائے کہ یہاں سے جو طالب علم بھی پڑھ کر نکلتا ہے وہ تعدا پر پورا یقین رکھتا ہے۔وہ اخلاق کی حفاظت کرتا ہے۔وہ مذہب کی عظمت کا قائل ہوتا ہے۔اگر ایک ہندو یہاں سے بی۔اے کی ڈگری لے کر جائے تو اُسے بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر پورا یقین ہونا چاہیے۔اگر ایک سکھ یہاں سے بی۔اے کی ڈگری لے کر بھائے تو اسے بھی بھلا تعالے کی ذات پر پورا یقین ہونا چاہیے۔وہ دہریت کے دشمن ہوں۔وہ اخلاق سوز حرکات کے دشمن ہوں۔وہ مذہب کو ناقابل عمل قرار دینے والوں کے مخالف ہوں اور یورپین اثر سے پوری طرح آزاد ہوں۔وہ چاہے احمدیت کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں مگر مذہب کی بنیادی باتیں ان کے دلوں میں ایسی راسخ ہوں کہ ان کو وہ کسی طرح چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں۔اسی طرح ہمارے کالج کا ایک امتیازی نشان یہ بھی ہونا چاہیئے کہ اگر ایک عیسائی یا یہودی اس جگہ تعلیم حاصل کرے تو وہ بھی بعد میں یہ نہ کہے کہ سائنس یا حساب یا فلسفہ کے فلان اعتراض سے مذہب باطل ثابت ہوتا ہے بلکہ جب بھی کوئی شخص ان علوم کے ذریعہ اس پر گوئی اعتراض کرے وہ فوراً اس کا جواب دے اور کہے میں ایک ایسی جگہ سے پڑھ کر آیا ہوں۔جہاں دلائل و براہین سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے جو سب پر حکمران ہے میں ایسے اعتراضات کا قائل نہیں ہوں۔اگر ہم دہریت کی تمام شاخوں کی قطع و یمیر کر دیں۔اگر ہم خدا تعالے کی ہستی کا یقین کانی میں تعلیم پانے لڑکوں کے دلوں میں اس مضبوطی سے پیدا کر دیں کہ دنیا کا کوئی فلسفہ، دنیا کی گھوٹی