تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 656
۶۴۰ شعلوں سے لڑائی ہوئی اور یہ نظارہ لاہور۔امرتسر اور کئی دوسری جگہوں میں دیکھتے ہیں آیا اور آگ کے ساتھ ایک دوسرے کو اس قدر نقصان پہنچایا گیا کہ اس کی کوئی مثال ہی نہیں مل سکتی۔ایک انگریزی اخبار کا ایک انگریز نا مہ نگار میں نے لاہور اور امرتسر کے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کیا تھا اس نے بیان کیا کہ پانچ سال کی ہو منوں کی وحشیانہ گولہ باری کے نتیجہ میں جتنے مکانات لندن میں تباہ ہوئے تھے اس سے زیادہ مکانات لاہور اور امرتسر کے دو تین ماہ کے فرات ہیں۔تباہ ہو گئے ہیں۔گویا پانچ سال کے لیے عرصہ میں جتنا ظلم جرمنوں نے انگلینڈ کے سب سے بڑے شہر لنڈن پر کیا تھا اُس سے زیادہ معلم دو تین ماہ کے قلیل عرصہ میں لاہور اور امرتسر میں ہوا۔ان شاورت کی ابتداء اور مارچ سے ہوئی گویا ان فسادات سے چھ یا سات دن پیشتر خدا تعالے نے مجھے بتا دیا تھا کہ رب عنقریب آگ کی لڑائی شروع ہونے والی ہے چنانچہ یہ لڑائی اتنی شدت کے سا تحظہ ہوئی کہ بعض شہروں میں تو محلول کے محلے خالی ہو چکے ہیں اور جہاں بڑی بڑی عماد نہیں تھیں وٹالا اب علیہ کے ڈھیروں کے سوا کچھ نہیں رہا۔لاہور کے متعلق ایک شیر ملی ہے کہ شاد عالمی دروازہ کے اندر دو دو سو گنہ تک بازار کے دو رویہ مکانات بالکل تقسیم ہو چکے ہیں گویا صرف ایک جگہ ایک بڑے گاؤں یا ایک چھوٹے قصبہ کے برابر مکانات تباہ ہوتے ہیں پھر ان فسادات ہیں ایک ایک محلہ میں کروڑوں کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا ہے۔بعض جگہیں تو ان شہروں میں تباہی کا عجیب منظر پیش کرتی ہیں اور کوئی شخص انہیں دیکھ کر پہچان ہی نہیں سکتا کہ یہ وہی جگہیں ہیں جہاں چار چار پانچ پانچ منزلہ مکانات ہوا کرتے تھے۔پھر ان فسادات کے دوران میں ایسے ایسے درد ناک اور جگہ پاش واقعات ہوئے ہیں کہ ان کو شنکہ بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ ایسے ہیں کو سنگدل سے سنگدل انسان بھی اُن کو شنکر اپنے آنسوؤں کو روک نہیں سکتا مجھے پرسوں ہی کسی دوست نے بتایا کہ جب آگئیں لگی تھیں تو جن کے گھروں کو آگیں لگائی جاتی تھیں ان کے بچے اور عورتیں ہاتھ ہوڑ کے کھڑے ہو جاتے تھے اور نہایت عاجزانہ طور پر آگ لگانے والوں سے کہتے تھے کہ ہم تو پانچے کچھ سوسال سے یہاں رہ رہے ہیں