تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 653 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 653

ما سی ۳۲۲ ایش کے شروع ما دامان / مارچ نہ پیش کے فسادات کی وجہ अवतर 1976 ما ه امان راری سے قادیان بیرونی علاقوں سے بالکل کٹ گیا تھا کیونکہ فسادات اور قادیان نہ ریل آتی تھی نہ ڈالک نہ نار نہ ٹیلی فون یہ وہ ایام تھے جن میں حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود سندھ تشریف رکھتے تھے۔مختلف مقامات سے نار بلوا کر حالات سے مطلع رکھنے کی کوشش کی گئی مگر بعد کو معلوم ہوا کہ بہت کم تا رحضورت تک پہنچ سکے ہیں۔اسی طرح ہوتار پیرونی جماعتوں کی غیریت دریافت کرنے اور مرکز سلسلہ کی خیریت کی خبر پہنچانے کے لئے دیئے گئے وہ بھی بہت کم پہنچ سکے البتہ گا ہے گا ہے لاہور اور امرتسر کی جماعت کے ساتھ بعض ذرائع سے رابطہ قائم کرنے کا موقعہ ملتا رہا اس دوران میں آٹھ روز کے لئے لفضل کو بھی ایک درق صورت میں بدل دیا گیا کیونکہ اس کے باہر بھجوانے کی کوئی صورت نہ تھی۔اور نہ باہر سے خبریں موصول ہونے کا کوئی انتظام تھا۔ماہ رمان مارچ کے تیسرے ہفتے میں خیالا مثال وقتی طور پر معمول پر آگئے اور تانگوں سے ڈاک بھی آنے لگی پھر روزانہ ڈیزل کا کی ایک سروس بھی قائم ہوگئی۔اطلاع پہنچی کہ نہ صرف حضرت امیر المومنين المصلح الموعود بخیر سمیت نہیں بلکہ لاہور ملتان اور امرتسو میں بھی احمدی جماعتیں بخیریت ہیں۔البتہ امرتسر کے احمدیوں کا کچھ مالی نقصون بھی ہوا اور ایک احمدی کو خفیف سی ضربیں آئیں۔قادیان میں فسادات کے ابتداء میں ہی ایک امن کمیٹی بنا دی گئی تھی جس میں احمدیوں کے علاوہ دوسرے مسلمانوں اور سکھوں اور مہند قوں نے بھی شرکت کی جن کی وجہ سے قادیان اور اس کے ماحول میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔اور فضا پر سکون رہی ہے له الفضل ۲۰ امان اطلاع نمایش صفحه و تو بار قم فرموده حضرت قمر الانبياء مرزابشیر احمد سن الختا اس کمیٹی کے اٹھارہ ممبر تھے میں میں سات احد کی کچھ غیر احمدی اور پانچ ہند ویا سکھ تھے۔ار ما د امان امار پر ہم پیش کو کمیٹی کی طرف سے ایک اشتہار بھی شائع کیا گیا جس کا عنوان تھا ہندو ار یاری 19 م مسلمانوں اور سکھوں سے دردمندانہ اپیل آؤ ہم سب اکٹھے ہو جائیں ، وہ ارادہ ایمان کو اس کمیٹی کے زیر اہتمام حضرت صاجزادہ مرد انا صراحمد صاحب کی صدارت میں ایک جلسہ عام بھی ہوا۔جس میں اتحاد و اتفاق سے رہنے کی تلقین کی گئی۔کمیٹی کے سیکرٹری مولوی برکات احمد صاحب بی اے راجی کی تھے۔