تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 639
قیام یورپ کے دوران آپنے تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ بعض برطانوی پروفیسروں اور دوسرے اکا بر تک بھی پیغام کو پہنچایا۔علاوہ ازیں آپ کو ہالینڈ کی مشہور یو نیورسٹی کے صدر مقام لائیڈن میں بھی بھانے کا موقعہ ملا۔اور دو " مشہور مستشرقین دکر میر اور کمر اور ا سے ملاقات کر کے اسلام اور احدیت سے متعلق گفتگو کی۔اور مقدم الذکر کو اسلامی اصول کی فلاسفی " اور " احمدیت یعنی حقیقی اسلام " کا تحفہ بھی پیش کیا۔اے ۶۱۹۲۷ ۲۹ ماه دونار جولائی ہیں اے اللہ میں کو آپ لنڈن سے روانہ ہو کہ اس وفا کو کراچی اور ۲ رماہ ظہور / اگست ر میش کو قادیان پہنچے۔سٹیشن پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور دوسرے افراد خاندان حضرت مسیح موعود نے آپ کا خیر مقدم فرمایا۔ے کولیبو میں جناب سی۔ایچے مختار صاحب سیلون کے اور ادراک ملخص نگا اور رات کی بعض مخلص احمدیوں کی انتقال او میں احمدیوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت اولین ۱۳۲۵ خلیفہ اولی کے عہد خلافت میں بعیت کی تھی۔آپ نے اس سال دو ماہ صلح جنوری پر پیش ک وفات پائی۔سکے آپ کے علاوہ سانٹا کولم مدراس کے رہنے والے اسے ایم سعید احمد صاحب جو جنوبی ہند کے نہایت مخلص و مستانہ اور شہو را در پیر بوش احمدی تھے۔ارماہ مسلح جنوری مالیہ مہیش کو اپنے محسن حقیقی سے جاملے۔آپ نے سان تان کولم میں سب سے پہلے احمدیت قبول کی۔آپنے ابتداء میں احمدیت کی خاطر بہت تکلیفیں اٹھائیں تمام گاؤں والوں نے علاقہ کے سب سے بڑے مفتی کے فتوئی پر بائیکاٹ کر دیا تھا۔مگر آپ خدا کے فضل سے ہمیشہ تبلیغ احدیت کرتے رہتے۔ہر ایک کے ساتھ نرمی سے پیش آتے اور بہت محبت پیار سے باتیں کرتے۔گاؤں کے غیر احمدی کہا کرتے تھے کہ آپ ہیں تو دلی مگر یہ غلطی کر بیٹھے ہیں کہ قادیانی ہو گئے ہیں۔سماء مینی مدراس کے ایک تاجر نے تقریبا دس ہزار رہ دیے خرچ کر کے سان تان کولم میں طلبہ کرایا اور ارد گرد کے دیہات سے ہزاروں کی تعداد میں غیر احمدی مدعو کئے۔علاقہ کے بڑے بڑے علماء نے آپ کو اور مولوی عبداللہ صاحب مبلغ مالا بار و علاقہ مدر اس کو مناظرہ کے لئے پھیلنج دیا۔مولوی صاحب اور مرحوم مناظرہ کے لئے الفضل ، ہجرت مئی یہ ہی مٹ +1424 صدا :۔ه الفضل و صلح شما : 4 الفضل امور د ناسته ده رظہور رنگت روش ها