تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 635
۶۱۹ خط بھی سنایا جو انہوں نے حضرت شہنشاہ اورنگ زیب کے نام لکھا تھا اور جوکہ نتھو صاحب میں ظفر نامہ کے نام سے موسوم ہے اور جس میں نہایت محبت و اخلاص کا اظہار کیا تھا۔آپ نے ظفرنامہ کا اردو ترجمہ پنجابی زبان میں کیا اور ایسے انداز میں قرآنی تعلیم کی تطبیق گورو نانک صاحب کے اقوال سے کی۔شہر سنائے اور آیات قرآنی پڑھیں کہ سامعین پر ایک سماں بندھ گیا اور تحسین و آفرین کی آواز میں آنے لگیں۔دوسرے دن سیکرٹری کیٹی نابجہ کے احمدیوں کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے مولوی صاحب کی تقریر اور واقفیت کو پنتھ نے نہایت پسند کیا ہے اور بہت صاحب گوردوارہ نے دھن باد کا پیغام دیا ہے۔نے کوٹ سید محمود متصل امرت سر میں سکھوں کی طرف سے دیں بادشا ہی کے گوردوارہ بوڑھی صاحب میں دیوان کے موقعہ پر گیانی عباد اللہ صاحب مبلغ سلسلہ احمدیہ نے لیکچر دیا جو بہت له مقبول ہوا۔سکھ پریزیڈنٹ نے کہا کہ اس وقت ملک کو ایسی تقریر دن کی بہت ضرورت ہے۔لے آریہ سماج دہلی نے ۱۲؍ فروری ۱ ( ۱۲در تبلیغ ۳۳۵ مہ میں) کو ایک مذہبی کا نفرنس کا انتظام کیا جس کے لئے یہ مضمون مقرر کیا کہ " میرا مذہب ملک کی ترقی کی راہ میں روک نہیں ہے " جماعت احمدیہ کی طرف سے مولانا ابو العطاء صاحب نے اس کا نفرنس میں حصہ لیا۔آپ کی تقریہ سامعین نے نہایت اطمینان اور توجہ سے شنی اور دوران تقریر کئی بار نعرہ ہائے تحسین بلند کر کے اپنے جذبات کا اظہارہ کیا۔مقامی اخبارہ نتیجے نے اس تقریر کا خلاصہ بھی شائع کیا۔سے دستور اساسی خدام الاحمدیہ کے مطابق قادیان کی تقدام الاحمدیہ قادیان کے پہلے قائد مجلس مقامی خدام الاحمدیہ کے لئے الگ قائد نہ تھا بلکہ حضرت صدر مجلس ہی کے سپر د قیادت قادیان کے فرائض تھے۔مگر اس سال حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کی ہدایت پر قائد مقامی کا انتخاب ۳۰ / امان / مارچ یہ مہیش کو عمل میں لایا گیا جس میں الفضل ، تبلیغ / فروری پیش من ملخصاً مضمون قدرت اللہ صاحب سیکر ٹری انجمن احد یہ نا محه ) حث را سیکریٹری احمدیه تا ) ہش شگاه : ۲۰۱۵ رامان ۱۰ الفضل ۲۵ را مان / مارچ اور امین صحت کالم ۲۲۱۱ " ۱۳ - الفضل اور تبلیغ / فروری