تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 622 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 622

۶۰۶ کی جدو جہد سے ہی یہ کیمپ جاری ہوا۔ان ایام میں جہاں جہاں احمدی افسر موجود تھے وہاں وہاں انہوں نے نہایت اخلاص اور دیانتداری اور جانفروشی سے یہ خدمت کی۔ہے ت جماعت احمدیہ کے مرکزی بی وفود اور دوائیں اور دوسرے امدادی کاموں پر دس ہزار سے زاد پوری ہوا۔مصلح مور ڈاکٹر ویست لیمن کی توانا اور ا کر میرا ایمان کی کاوانی جنوبی افریقہ کے کالو ایک نہایت معز نہ اور با اثر خاندان کے چشم و چراغ یان فی جنوبی افریقی می تبلیغ حدیت کی داغ میں تھے جو شاہ کے حدیث میں شامل تھے۔اور سے بجماعت احمدیہ انگلستان کے مشہور و معروف اور مخلص مستانہ فرد انخاندان مسیح موعود کے عاشق صادق اور اسلام و احمدیت کا عملی نمونہ تھے۔انگلستان میں بچپن سے رہائش رکھنے کی درجہ سے انگریزی زبان توگو یا ان کی مادری زبان تھی۔علاوہ ازیں جرمن ، فرنچ ، ڈچ اور افریقی زبانیں بھی جانتے تھے اور تبلیغ کا بہت شوق رکھتے تھے۔اور انگلستان میں عام لوگوں کے علاوہ مختلف ممالک کے سفیروں اور وزیروں کو موثر طور پر پیغام بھی پہنچاتے رہتے تھے۔جنوبی افریقہ میں کسی وہ اصل باشند ستے تھے نئے ہندوستانیوں کا داخلہ بند تھا اور پرانے ہندوستانی باشندوں سے شرمناک سلوک زدار کھا جاتا تھی۔حضرت مصلح موجود سالہا سال سے حسرت کی نگاہ سے اس علاقہ کو دیکھ رہے تھے کہ کوئی ذریعہ وہاں مبلغ بھجوانے کا نکل آئے۔لیکن اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ میں احمدیت کی اشاعت و تبلیغ کا غیبی سامان یہ کیا کہ ڈاکٹر یوسف سلیمان شروع ماه امان امانه ای می میں اچانک قادیان تشریف لائے اور حضرت مصلح موعود سے ملاقات کی اور بتایا کہ وہ آئندہ جنوبی افریقہ میں رہائش پذیر ہوکر تبلیغ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ساتھ ہی کسی بیرونی مبلغ کو نگوانے کا وعدہ بھی کیا۔چنانچہ حضرت مصلح مویئود نے اپنے خطبہ جمعہ در امان مارچ وہ پیش نہیں اس ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ : ڈاکٹر صاحب نے اپنی ساری عمر انگلستان میں گزاری ہے۔انہوں نے ڈاکٹری پاس تو کی تھی لیکن ڈاکٹری پیشہ اختیار نہیں کیا۔ان کے والد صاحب امیر آدمی تھے اور اتنی جائیداد انہوں نے چھوڑی ہے کہ وہ اس پر گزارہ کرتے ہیں۔ان کے والد کیپ ٹاؤن کے علاقہ کے ویسے ہی لیڈر تھے جیسے مسٹر گاندھی ٹال کے اور دونوں مل کر کام کیا کرتے تھے۔جب ڈاکٹر صاحب مجھے ملے تو انہوں نے بتایا کہ مسٹر گاندھی کئی دفعہ ہمارے گھر آکر ٹھہرتے اور کئی دفعہ میڈیکل ریلیف وند کے دورہ بہار کی رپورٹ سے ملحق در تبہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے سپیکر ڑی بہار کیٹی۔مطبوع ۲۰۰۲۰۰۱۶ رفتح ۱۳۳۵ بیش ) بخش ۱۲ ماه امان ۱۳۲۵ پیش ۲۰ : ه : بفضل مهرماه بحرت استی مرا