تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 604 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 604

DAA سوال : اگر ڈرچ لوگ اس علاقہ میں داخل ہوں اور انڈو نیشین ان کا مقابلہ کریں تو جماعت حمدیہ کو کسرف ہونا چاہیئے؟ جواب :۔میں کہ چکا ہوں کہ مصلحت اسی میں ہے کہ زیادہ سے زیادہ حقوق حاصل کر کے صلح کر لی جائے۔کیونکہ سب مغربی حکومتیں منہ سے کچھ بھی کہیں ڈچ کے ساتھ ہونگی لیکن ار فی الواقعہ ملک میں اکثریت کی حکومت قائم ہو چکی ہے تو چونکہ وہ جائز حکومت ہے احمدیوں کو اس کا ساتھ دنیا انہیں نہیں پسندیدہ ہوگا۔مگریہ فعل انڈونیشین کا ہو گا خلاف حکمت۔سوال :۔اس آزادی کی تحریک میں بھتہ لیتے ہوئے مرنے والا شہید ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو من قبل دون اهماله ومَالِهِ فَهُوَ شھید کا کیا مطلب ہے ؟ جواب :۔آزادی کی کوشش میں حصہ لینے والا شہید تو ضرور ہوتا ہے مگر یہ شہادت دینی نہیں۔ورنہ ہر انگر یز اور بر من بھی شہید ہونا چاہیئے۔شہید سے مراد یہ ہے کہ قوم کا ہیرو ہوگا۔یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہیروہ ہوگا۔خدا تعالیٰ کا ہیرو ہی ہو گا جو دین کے لئے شہید ہوا ہے : ان جوابات کے علاوہ حضرت مصلح موعود نے ۱۶ ظہور اگست یہ ہش کے خطبہ جمعہ میں انڈونیشیاکی آبادی کے حق میں پر زور آواز بلند کی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی تحریک فرمائی کہ وہ مسلمانان انڈونیشیاء کی تحریک آزاد تھی کی نہ بر دست تائید کریں۔چنانچہ حضور نے فرمایا :- سامری دنیا میں صرف انڈونیشیا ایک ایسا علاقہ ہے جس میں چھ سات کروڑ مسلمان ایک زبان بولنے والے اور ایک قوم کے بستے ہیں اور جن کے علاقے میں غیر لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں اور بھی میں اتحاد کی روح اسوقت زورسے پیدا ہو رہی ہے۔دنیا بھر میں اور کئی علاقہ اسلامی مرکز ہونے کی انقدر اہمیت نہیں رکھتا ہیں اس وقت اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ اخباروں میں، رسالوں اور اپنے اجتماعوں میں مسلمان اپنے ان بھائیوں کے حق میں آواز اٹھائیں اور ان کی آزادی کا مطالبہ کریں۔اگر اب ان کی امدا د نہ کی گئی اور اگر اب انکی حمایت نہ کی گئی۔تو مجھے خدشہ ہے کہ ڈرح ان کی آواز کو بالکل دبادیں گے۔وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ انڈونیشیا کے شور پر قابو پالیں اور اس کوشش میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ه - الفضل ۲۰ صبح / جنوری ماه پیش است : : مولانامحمد صادق صاحب نے سماٹرا نے انہیں دنوں انڈونیشیا کی آزاد حکومت کے آئین کی تفصیل" کے عنوان سے ایک مضمون بھی لکھا تھا جود الفضل ظہور / تبوک ا ہم میں بالا قساط شائع ہوا ہے