تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 603
AAN و کرنےسے تعلق رکھتے اور ہیں جو اختیارات کے منتقل کرنے سے تعلق رکھتے ہیں نہایت احتیاط اور سرعت سے کئے جارہے ہیں بادیہ (بیکورتا ) ا ر اگست ۱۹۳۵ روسیه دار راس اعلان کے بعد ہالینڈ کی ڈچ افواج نے ملک کو پہلے کی طرح اپنے زیر نگیں کرنے کیلئے ہم شروع کر دی۔اس اہم مرحلہ پر یوں نا حمد صادق صاحب مبلغ سلسلہ احمدیہ مقیم پیڈ انگ (سماٹرا، نے حضرت مصلح موعود پیڈانگ کی خدمت میں انڈونیشیا کی تحریک آزادی سے متعلق بھار اہم استفسارات بھیجے جن کے حسب ذیل جواب حضور نے اپنے قلم سے تحریر فرمائے :- سوال :۔پہلے انڈو نیشیا میں وچ حکومت تھی اسکے بعد جاپانی حکومت قائم ہوئی۔پھر جاپانی حکومت بھی ختم ہو گئی۔چونکہ اتحادی فوجوں کے آنے میں دیر ہوئی اس لئے انڈونیشیا کے لوگوں نے اپنی آزادی کا اعلان کر کے اپنی حکومت قائم کرلی۔آزادی کا اعلان اور حکمت کا قیام اتحادیوں کے مشورہ کے بغیر ہوا اس لیے اتحادیوں نے آج تک انڈونیشین آزادی اور حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔اس صورت میں کیا اسلام کی رُو سے انڈونیشیا واقعی آزاد قرار پاتا ہے ؟ اور کیا انڈو نیشین حکومت واقعی وہ حکومت ہے جس کی اطاعت رعیت پر فرض ہے یا کہ باغی جمعیت ہے ؟ جواب : - واقعی حکومت تو وہی ہوگی میں کو ملک کی اکثریت قبول کر سے گی بہ باقی اگر ملک کی اکثریت آزاد تحکومت بنائے تو شرعا باغی نہیں کہلائے گی بلکہ حق پر بھی جائے گی کیونکہ ملک کو کلی طور پر فتح کر کے سابق حکومت کے قبضہ سے نکال لیا گیا تھا۔باقی رہا سوال مصلحت اور حکمت کا۔اسے وہاں کے لوگ خود سمجھ سکتے ہیں۔ہمارے نزدیک مغربی حکومت کھلی آزا د حکومت نہیں رہنے دے گی۔اس لئے سمجھوتا کرنا مفید ہوگا۔سوال:- آزادی کی تحریک اور دوسرے سیاسی امور میں حمدی حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ مثلاً انڈو نیشین حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر ڈچ لوگ دفتروں اور کارخانوں پر قابض ہو گئے تو ہم ائی سے بائیکاٹ اور سٹر ایک کریں گے۔کیا ایسے بائیکاٹ اور سٹرائیک میں شریک ہونا جائز ہے ؟ جواب : اگر انڈو نیشین حکومت واقعی اکثریت کی حکومت ہے توارد پر لکھا جا چکا ہے کہ وہ جائز حکومت ہے اس صورت میں اسکی احکام کی تعمیل شرعاً جائز ہی نہیں بلکہ پسندیدہ ہے۔ه الفضل به ظهور اگست ۳۵ کش ها و مه