تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 600
AND آئے۔اور اس کے لئے روز بروز زیادہ سے زیادہ مجاہد ملتے جائیں۔اللهم آمین : اسے ہندوستان کے احمدیو ! ذرا غور ت کرو تمہاری اور تمہارے باپ دادوں کی قربانیاں ہی یہ دون لائی ہیں۔تم شہید تو نہیں ہوئے مگر تم شہید کہ ضرور ہو۔افغانستان کے شہداء ہندوستان کے نہ تھے مگر اس میں کیا شک ہے کہ انہیں احمدیت ہندوستانیوں ہی کی قربانیوں کے طفیل ملی۔مصر کا شہید مہندوستانی تو نہ تھا۔مگر ا سے بھی ہندوستانیوں ہی نے نور احمدیت سے روشناس کر دیا تھا۔اب یورپ کا پہلا شہید کو ہندوستانی نہ تھا مگر کون تھا سنی اسکی اند ر اسلام کا جند یہ پیدا کیا ہ کون تھا جس نے اس صداقت پر قائم رہنے کی بہت ولائی پہ بشیک ایک ہندوستانی احمدی ! اسے عزیز وفتح تمہاری سابق قربانیوں سے قریب آرہی ہے مگر جوں بھوں وہ قریب آ رہی ہے تمہاری سابق قربانیاں اس کیلئے ناکافی ثابت ہو نہ ہی ہیں۔نئے مسائل نئے زاویہ نگاہ چاہتے ہیں۔نئے اہم امور ایک نئے کہ ناگ کی قربانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔اب ہماری سابق قربانیاں با لکل ویسی ہی نہیں بھیسے ایک جوان کیلئے بچہ کا سیاس۔کیا وہ اس لباس کو بہن کہ شریفوں میں گنا تھا سکتا ہے یا عقلمندوں میں شمارہ ہو سکتا ہے۔اگر نہیں تو نجان لو کہ اب تم بھی آج سے پہلے کی قربانیوں کے ساتھ وفاداروں میں نہیں گئے جا سکتے۔اور مخلصوں میں شمار نہیں ہو سکتے۔اب جہاد ایک خاص منزل پر پہنچنے والا ہے۔پہلا دور مصیبتوں کا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ دوستم کے دعوئی رسالت کے ابتدائی دور کے مشابہ تھا ز ر ا ا ا ا ا ا ا و ر ی ر ہا ہے جو سول کریم ملی علیہ والہ وسلم کے دادری میں نظر بند ہونے کے مشابہ ہے۔آج اگر ہم نے اس دور کے مطابق قربانیاں نہ کیں تو ہمارا ٹھکانہ ہیں نہ ہو گا۔ہماری مالی اس صورت میں اس شخص کی سی ہوگی جو سار کی چوٹی پر پہنچ کر گر جاتا ہے۔مبارک ہے وہ جو نان پر پڑھو جاتا ہے مگر اس سے زیادہ بد قسمت بھی کوئی نہیں جو مینار کی چوٹی پر چڑھو کہ کرکھاتا ہے۔ہمارے نوجوان قربانیوں کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔الحمد للہ۔لیکن ہمارے چندہ دہندگان اپنے بیٹوں کو کھولنے کی بجائے ان کا منہ بند کر رہے ہیں۔انا شد اے غافل بھاگو ! اے بے پروا ہو ہوشیار ہو جاتا تحریک جدید نے تبلیغ اسلام کے لئے ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔مگر اب وہ کام اسقدر وسیع ہو چکا ہے کہ موجودہ چندے اس کے بوجھ کو اٹھا نہیں سکتے۔مبارک ہے وہ سپاہی جو اپنی جان دینے کے لئے آگے بڑھتا ہے۔مگر بد قسمت ہے اس کا وہ وطنی ہو اس کے لئے گولہ بارود بہتا نہیں کرتا۔گولہ بارود کے ساتھ ایک فوج دشمن کی صفوں کو تہ دیاں کر سکتی ہے۔مگر اس کی بغیر وہ ایک بکروں کی قطار ہے جسے قصائی یکے بعد دیگر سے ذبح کرتا جائیگا۔تمہارے بیٹے ہاں بیٹوں سے بھی زیادہ قیمتی وجود