تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 592
فضا میں اپنے دن گزار رہا ہوں۔مگر جب یہاں سے گیا اور امرتسر پہنچاتو چونکہ قادیان میں سات آٹھ دن میں نے شراب نہیں پی تھی اسکی مجھے شراب پینے کا شوق تھا۔وہاں بعض اور انگریز دوستوں کے ساتھ میں کھانے کے کرہ میں گیا انہوں نے بھی شراب کا آرڈر دیا اور میں نے بھی شراب کا آرڈر دید یا مگر پھر مجھے خیال آیا کہ سات آٹھ دن میں نے شراب نہیں پیت مجھے کچھ نہیں ہوا۔اگر کچھ اور دن بھی میں شراب چھوڑ کر دیکھوں تو کیا حرج ہے۔چنانچہ میں نے شراب کا آرڈر منسوخ کر دیا۔یہ پہلی تبدیلی تھی جو میرے اندر واقع ہوئی۔اسکی بعد میں برابر شراب سے بچتا رہا۔فوج میں گیا تو وہاں میرے انگریز دوستوں نے مجھ سے مسخر شروع کردیا اور کہا ہم دیکھیں گے کہ تم کب تک شراب نہیں ہوں گے۔اس میں اور زیادہ پختہ ہو گیا اور آخر رفتہ رفتہ میری ایسی حالت ہو گئی کہ مجھے شراب کی بھا بہت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی اسکے بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہ بھی قادیان جانے کی برکت ہے کہ شراب کی عادت بھاتی رہی۔پھر میں نے زیادہ سنجیدگی سے اسلام اور احمدمیت کا مطالعہ کیا حقیقت مجھ پر پھل گئی اور میں نے اسلام قبول کر لیا۔وہاں سے ان کی راو پیری تبدیلی ہوگی یہاں بھی نگرانی انکو برای تنگ کرتے اور قسم قسم کی تدابیر سے انکوانی طرف مائل کرنے کی کوشش کر تے۔مگر للہ تعالی کے فضل سے وہ اسلام پر زیادہ سے زیادہ نیوی کے ساتھ قائم ہوتے چلے گئے۔ان میں انہوںنے با قاعدگی کے ساتھ شریرہ کر دیں اور ڈاڑھی بھی رکھ لی۔اپر انگر یہ انہیں اور زیادہ تنگ کرتے کبھی نمانہ پر تمسخر شروع کر دیتے ، کبھی دائرہ بھی پر اعتراض کرتے کبھی کھانے پر جھگڑا شروع کر دیتے۔آخر انہوں نے ملازمت چھوڑی اور اپنی زندگی اسلام کے لئے وقف کر دی اب وہ انگلستان میں اسلام کی تباری کر رہے ہیں اور محض روٹی کپڑا ان کو دیا بھاتا ہے۔اس شخص کی حالت یہ ہے کہ یہ باقاعدہ تہجد پڑھتا ہے۔نمازیں باجماعت ادا کرتا ہے۔لمبی لمبی دعائیں کرتا ہے منہ پر داڑھی رکھتا ہے اور اس کی شکل دیکھ کر سوائے چہرہ کے رنگ کے کوئی شخص نہیں کہ سکتا کہ یہ انگریز ہے بلکہ ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ یہ بہت پر انا مسلمان ہے۔اگر یورپ کا رہنے والا ایک شخص اپنے اندر اتنا تغیر پیا کر سکتا ہے کہ وہ نمازوں کا پابند ہو جاتا ہے۔تہجداد ا کرتا ہے اور تمام شعائر اسلامی کو خوشی کے ساتھ اختیار کرتا ہے تو ہندوستان یا کسی اور ملک رہنے وال کیوں ان باتوں پر عمل نہیں کر سکتا ہے خاتمہ جنگ کے بعد مسٹر بشیر آرچرڈ اور ماہ شہادت پر یا تار میش کو انگلستان پہنچے اور انگلستان کی مادی فریج سے نکل کر حمد رسول للہ کی آسمانی فریج میں داخل ہوگئے۔یعنی آپ نے اپنی زندگی اسلام و احمدیت کے لئے وقف کر دیتی جس پر آپ غم ہجرت مٹی ہے یہ مہیش کو حضرت مصلح موجود کے ارشاد پر مرکز احمدیت قادیان میں فرضی : "قیام پاکستان در ہماری ذمہ داریاں - صیغه نشر و اشاعت لاہور شده در ه الفضل دار ہجرت شام میں مفہیم پر وقف زندگی سے متعلق آپ کی درخواست کا ترجمہ شائع شدہ ہے ؟ : یش صفر