تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 586
قربانی کرنے والوں کے نام پر رکھتے جائیں گے۔ان گاؤں کے نام بھی للہ تعالی کا ایک انسان ہوں گے۔کیونکہ ایک دو دن تھا کہ قادیان میں اگرتین چار سو روپیہ چندہ آ جاتا تھا تو بڑی ترقی بھی جاتی تھی اور آج یہ دن آیا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے سلسلہ کوں کھوں لاکھ کی جائیدادیں دی ہیں اور قربانی کرنے والوں کے نام پر گاؤں آباد ہو رہے ہیں۔سید نا حضرت ہی موعود علیہ سلام ہمیشہ دعا کرتے تھے اللہ تعالی اور ہیں حمیت کا رہے ہیں انگریز واقف کا زندگی لوگوں میں سے احمدیت کے لئے زندگی وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائے چنانچہ حضور نے و راکت پر مسلہ کو اپنی اس خواہش کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : - " ہم ہمیشہ دعا کرتے ہیں اور ہماری ہمیشہ سے یہ آرزو ہے کہ یورپین لوگوں میں سے کوئی ایسا نکلے جو اس سلسلہ کے لئے زندگی کا حصہ وقف کرے لیکن ایسے شخص کے لئے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ محبت میں ه که رفته رفته در تمام ضروری اصول سیکھ لی سے جن سے اہل اسلام پر سے ہر ایک داغ دور ہو سکتا ہے اور وہ تمام قوت و شرکت سے بھرے ہوئے دلائل سمجھ لیو سے جن سے یہ مرحلہ طے ہو سکتا ہے۔تب وہ دوسرے ممالک میں بجا کہ اس خدمت کو ادا کر سکتا ہے۔اس خدمت کے برداشت کرنے کیلئے ایک پاک اور قومی رح کی ضرورت ہے جس میں یہ ہوگی وہ اعلیٰ درجہ کا مفید انسان ہو گا اور خدا کے نزدیک آسمان پر ایک عظیم الشان انسان قرار دیا جاوے گا یہ ہے (JOHUBREN حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان دعاؤں کا یہی ثمر عہد صلح موعود میں جان برین آرچرڈ (REN ORCHARD بنے جو شہر میں دوسری جنگ عظیم کے دوران لیفٹینٹ تھے اور ہندوستان اور برما کی سرحد پر لڑنے والی ۱۴ آرمی میں متعین تھے کہ اسی دوران میں انہیں ایک احمدی حوالدار کرک عبد الرحمن صاحب دہلوی کے ذریعہ اسلام واحمدیت کا پیغام ملاجسر آپ شاد میں خفیہ طور پر ادیان پہنچے اور حضت مصلح موعود کی زیارت سے مشرف ہوئے اور پھر دوبارہ قادیان اگر حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کر لی حضور نے آپ کا اسلامی نام بشیر آرچرڈ رکھا۔بشیر آرچرڈ کو احمدیت کا پیغام کیسے پہنچا اور اُن کو قادیان بھانے کی تحریک کیسے ہوئی اس کی تفصیل یا پر اسیایی را ای بی :۱۰ - : العضل ۲ در شهادت / ایمیل سلام پیش صده : 31404 البدر مورخه ۲۹ اکتو بر د هر نومبر ۳۳۳