تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 575
یکم شہادت را پریل کی شب کو اس موضوع پر نصف گھنٹہ تقریر فرمائی جس میں صلح کے دس اہم نکات پیش کئے۔چونکہ دوسرے مقررین میں سے کسی نے بھی کوئی ٹھوس بات پیش نہ کی اس لئے سامعین نے جناب مولوی صاحب کی تقریر کو ہمہ تن گوش ہو کر سُنا اور اس بات کا اقرار کیا کہ یہ ایک ایسی تقریر ہے جس میں صحیح علاج بتایا گیا ہے۔ہال کے باہر کئی ہندو نوجوانوں نے جناب مولوی صاحب سے ملاقات کی اور مزید معونا اہل کرنے کیلئے پتہ نوٹ کیا۔اے ه آریہ کاج نئی دہلی مذهبی کانفرنس : آریہ سماج نئی ورنی نے اپنے سالانہ جلسہ پر ایک مذہبی کانفرنسی کی ملی مندر نئی دہلی میں ان عالم کے موضوع پر اظہار خیالات کے لئے منعقد کی جس میں انجمن احمد یہ دہلی کی طرف سے جناب عبدالحمید صاحب سیکریٹڈ نی تبلیغ نے ایک مدلل اور ٹھوس مقالہ پڑھا۔ہے یتھیو سافیکل سوسائٹی کا پور : - ۱۸ر احسان ارجون یہ مہیش کو مولوی غلام احمد صاحب ارشد نے و کلیه تحقیر سائیکل سوسائٹی کا نچور کے ہال میں ایک لیکچر دیا جس میں اس مسئلہ پر روشنی ڈالی کہ قرآن مجید کوادر سے پیدائش انسانی میں تفاوت اور اختلاف کیوں ہے ؟ صاحب صدر نے اس لیکچر پر سب ذیل ریمارکس دیئے :۔" موں نا صاح نے جو جماعت احمدیہ سے تعلق کر سکتے ہیں یہ جو اصول اپنی الہامی کتاب سے احمدی نکتہ نگاہ جگر پیش کیا۔کہ تمام بزرگوں کی عزت کرو۔یہ نہایت شاندار ہے۔اور ہم نے پہلے کسی مسلمان سے ایسا نہیں سنا۔یہ آج پہلی مرتبہ جماعت احمدیہ قادیان کے نمائندہ سے بننے کا موقعہ میسر آیا ہے کہ قر آن مجید کے اندر الیسا زرین اصول بھی موجود ہے کہ تمام مذاہب کے بزرگوں اور پیشواؤں کی عزت کرد۔ہم مولانا کا بہت بہت شکریہ ادا کرتے ہیں اور ہم نے اس قسم کی تقریر پہلے کسی مسلمان سے نہیں سنی۔مولانا صار بنے ہو تو حید کا ملہ پیش کیا ہے کہ تمام انبیاء اسی توحید کو پیش کرتے آئے ہیں واقعی آپ کا فرمانا اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے۔باقی رہا یہ جھگڑا کہ پیغمبروں میں سے کون بڑا اور کون پھوٹا ہے۔اس مسئلہ کو ہم بآسانی نہیں کچھ سکتے۔کیونکہ ہر مذہب کے اندر پیغمبر آتے رہے ہیں۔دوسرے مسلمان اس اصول پر ہرگز عمل نہیں کرتے۔بلکہ دوسروں۔کے بزرگوں کو برا کہنا تو اب خیال کرتے ہیں۔اگر جماعت احمدیہ اس آیت قرآنی کے ماتحت زور دے تو بہت فائدہ ہو سکتا ہے تاکہ دوسرے مسلمانوں کے اندر اس کی اہمیت پیدا ہو جائے۔اور دنیا میں امن قائم ہو۔جماعت احمدیہ کے اس اصول پر ہو کہ میں نا نے پیش کیا ہے ہم مولانا کو مبارکباد دیتے ہیں " سے الفضل و شہادت / اپریل درپیش صد کالم کی تفصیل تفضل به شهادت را اپریل تفضل دور جون ۱۹۳۵ م کالم ۲ * ود ۲۳