تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 567 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 567

۵۵۲ الشیخ ربانی نے مولانا جلال الدین صاحب شمش کے وقت میں قبولی احمدیت کی اور آخر تنگ نہایت اخلاص اور وفاداری کر عہد بعیت پر قائم رہے۔بہت جفاکش اور محنتی نوجوان تھے۔تقوی پر ہیز گاری اور سلسلہ کے لئے غیرت میں اپنی مثال آپ تھے۔لوگ انہیں ولی اللہ سمجھتے تھے اور فی الواقعہ آپ ایک خدا رسیدہ انسان تھے۔مولانا ابو العطاء صاحب ۶۱۹۴۵ سابق مبتغ فلسطین نے اُن کے انتقال پر افضل کی سورامان زمان یہ پیش کی اشاعت میں ایک مضمون لکھا جس میں بتایا۔کہ مجھے فلسطین میں تقریبا با تم برس رہنے کا موقعہ ملا ہے اس عرصہ میں احدیث کی اشاعت اور تبلیغ میں حیس رنگ کا تعاون شیخ سلیم ایرانی مرحوم نے پیش کیا وہ کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔جب یہاں پر مدرسہ احمدیہ قائم کے میں نے اُن سے کہا کہ آپ اس مدرسہ میں پڑھانے کی خدمت سرانجام دیں تو انہوں اسے بلا چون و چرا منظور کیا جان نکر مالی طور پر بھی انہیں اس میں خسارہ تھا۔سیدنا حضرت امیرالمومنین خليفة لمسیح الثانی ایده ال تعالى نصره العزيز سے مرحوم کو عشق تھا اور آپ کی ہر تحریک پر لبیک کہنا سعادت سمجھتے تھے۔سلسلہ کے مبلغین سے انہیں للہ تعالٰی کے لئے محبت تھی اور مقدور بھر ان کی خدمت کرتے تھے۔بسا اوقات ایسا اتفاق ہوا کہ میں کسی جگہ جانے لگا ہوں تو وہ اپنا کام کاج چھوڑ کر بھی ساتھ ہو لیتے تھے اور اکثر کہتے تھے کہ مولوی صاحب آپ ان علاقوں میں اکیلے سفر نہ کریں۔کیونکہ آپ یہاں کے لوگوں کو نہیں جانتے۔خ سلیم الربانی مرحوم جماعت کے کاموں میں چندہ دینے میں سبقت لے جانے والے مخلصین میں سے ایک تھے۔انہوں نے ہر جماعتی تحریک میں حصہ لیا اور اپنی وسعت سے بڑھکر حصہ لیا۔بلکہ بعض دفعہ تو مجھے اصرار سے انہیں کم چندہ دینے کے لئے کہنا پڑتا تھا ان کی زندگی متوکل نہ زندگی تھی۔الہ تائی کا سلوک بھی ان کے ساتھ ایسا ہی تھا جیسا کہ اپنے پیارے بندوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔سلسلے کے لئے ہاتھ سے کام کرنے میں وہ لذت محسوس کرتے تھے مسجد محمود کیا تیر کی تعمیر میں پورے شوق سے کام کر نیوالوں میں سے ایک تھے تبلیغ کا بہت جوش تھا اور عملاً وہ اپنی زندگی تبلیغ کے لئے وقف رکھتے تھے۔متعدد آدمی ان کی تبلیغ سے احمدیت میں داخل ہوئے ارد گرد کے دیہات میں بھی تبلیغ کے لئے جاتے تھے اور جب لوگ گالیاں دیتے اور مارتے تو اس میں خوشی محسوس کرتے تھے۔قادریان آنے کا شوق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔علم دین کے سیکھنے کیلئے پوری جدوجہد کرتے تھے۔دن کو کام کرنے کے بعد رات کو قرآن شریف اور دوسری دینی کتا بیں پڑھتے تھے اور اردو سیکھنے کا بھی پورا اشوق تھا بلکہ میرے ذریعہ سے اردو کی پہلی کتاب منگوا کر پڑھی تھی ان کا خیال تھا کہ میں اتنی اردو زبان آنی