تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 560
۵۴۵ اسکی بعد ڈپٹی کمتر گورداسپور اور ڈسٹرکٹ بورڈ کے پاس بھی بارہ دفعہ پہنچے اور اس دکن کے لئے سوال اٹھایا۔بلکہ ایک انجنیر ساتھ لے کر سری کو بند پور تک سروے بھی کیا اور باقاعدہ نقشہ تیار کروا دیا۔ایک تجویز یہ بھی کی کہ ایک کمپنی بھاری ہو جب سے حصہ دار ہوں اور وہ اس ریلوے کو بھاری کر دیں آخر جب اس قسم کی درخواست ریو سے بورڈ میں دی گئی تو جواب ملا که بهہ منصوبہ خود ہمارے زیر تجویہ ہے اور اس کا نمبر ، مقرر کر دیا گیا ہے۔اس پر آپ نے ذاتی جدوجہد ترکی کردی۔کیونکہ آپ کا مقصد کسی منافع کا لکھانا نہیں تھا بلکہ سریل میاندی کرانا تھا۔چنانچہ تین سال کے بعد قادیان میں ریل جاری ہوگئی۔چنانچہ جب امرتسر سے قادیان کی جانب پہلی گاڑی چھلنے لگی تو اس وقت حضرت خلیفتہ اہسیح الثانی نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج تمہاری کوشش کامیاب ہو گئی۔نہ حضرت حاجی صاحب نے تحریک جدید کی مانی قربانی میں بھی حصہ لیا۔چنانچہ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین کی فہرست کے صفحہ ۲۴۲ پر آپ کے چندہ کی تفصیل درج ہے۔۲ ۱۰ حضرت حافظ نور محمد صاحب آف فیض اللہ پاک : - د ولادت شاشه داندانه ) : (بیعت ۲۱ ستمبر شمله : (وفات ۲۰ ماه فتح رودسمبر میشه حضرت حافظ صاحب سلسلہ احمدیہ کے دور اول کے بہت ممتاز بزرگوں میں تھے۔آپ کو شراء سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے اور برکت حاصل کرنے کا فخر حاصل تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے آپ کا نام آئینہ کمالات اسلام" کی فہرست میں 4 انمبر پہ اور ضمیمہ انجام اعظم کی فہرست میں 6 نمبر پر درج فرمایا ہے۔اسی طرح حضور کے اشتہارات مورخه ۳ ۱۲ فرورتی ده ماریچ شملہ میں بھی آپ کا ذکر ملتا ہے کے ۵ ستمبر ۴ 10 ہ کو آپ ۲۷۷ نمبر پر وصیت کر کے نظام الوصیت سے وابستہ ہوئے۔فیض اللہ چک اور اس کے نواحی دیہات میں اشاعت احدیت کیلئے آپ نے قابل قدر خدمات انجام دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ پر بہت شفقت فرماتے یہاں تک کہ ایک بار آپ کے گاؤں فیض اللہ پاک میں بھی تشریف لے گئے۔حضرت خلیفہ اول کی دفات پر جماعت فیض اللہ چک کے اکثر احباب کو ابال آگیا مگر حضرت حافظ صاحہ نے فورا محضرت خلیفہ المسیح الثانی کی بیعت کر لی۔اور پھر دوسروں کو تبلیغ کرتے رہے۔آخر خدا کے فضل سے دوسرے اکثر احباب بھی خلافت ثانیہ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے۔حضرت مصلح موعود کے مبارک وجود سے آپ کو بہت عقیدت تھی۔حتی اگر مرض الموت کے ایام میں بھی : روایات صحا بہ جلد ا ا صفحه ۱۲ = :- حضرت حاجی صاحب کی نرینہ اولاد۔میاں عبد المجید صابر صحابی ، میاں عبد الماجد ے۔حاجی اور صاحب رحابی با میانی محمد احمد صاحب - میاں محمد کیشی صاحب نے میاں مبارک مردم احب " تاریخ احمدیت لاہور ۳ تبلیغ رسالت جلد هفتم من ۳ ۳۳ و }