تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 554 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 554

۵۳۹ ر کسی دن کسی کو دن رات جو میں گھنٹوں میں کی اجازت دے رکھی تھی کہ جس وقت بھی ضرورت پڑے آجائیں۔آپ کے اخلاق کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی چوہڑا بھی آپ کے پاس حاضر ہوا تو اس کوبھی آپ کہاکہ نہایت پیاری اور محبت سے ریہ آواز سے مخاطب فرماتے تھے۔انمیں احد یہ کیل پور ہسپتال سے تین میل کے فاصلہ پر تھی اور پھر رستہ خراب کا مگر آپ صبح ، عصرا اور شام کی نماز کے لئے پا پیادہ بلاناغہ تشریف لے جاتے۔اور ہر قابل اعداد کی امداد اس کو علم دیئے بغیر لگا تار کرتے رہتے تھے۔کبھی اونچی نظر اٹھا کر نہ دیکھتے۔غربا ء سے اُن کا حسن سلوک انتہائی عمدہ تھا۔میں یور کی احمد یہ جماعت ان کو فرشتہ شاہ صاحب کے نام سے یاد کیا کرتی تھی۔آپ کی آمد سے کیل پور کی جماعت میں پھر سے زندگی کے نمایاں آثار پیدا ہو گئے۔ملے حضرت میاں خدا بخش صاحب گوندل نمبردار موضع کوٹ مومن ضلع سرگودھا :- روفات یا فتح دسمبر له مش ) علاقہ کریانہ بار کے اولین صحابہ میں سے تھے اور حافظ قرآن تھے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام اور حضرت خلیفہ مسیح انسانی کی کتابوں خصوصا آپ کی تفسیر کبیر کے مطالعہ کا خاص التزام فرما تھے اور رات کا بیشتر حصہ نوافل کی ادائیگی اور تلاوت کلام الہی میں نیبر ہوتا تھا۔آپ موصی بھی تھے اور احمدیت اور نظام خلافت سے والہانہ محبت رکھتے تھے۔حضرت مصلح موعود نے وقف بجا ئیداد کی تحریک فرمائی تو آپ نے حضور کی خدمت میں لکھا :- " میرے مکرم و مرشد سید نا حضرت امیر ام حماد LA دیر کا نہ حضور کے غلام نے آپ کا خطبہ جمعہ مورخہ ۱۰ ربیع الاول کا کل مورد ے کو پڑھا۔آپ کا اعلان خدا تعالیٰ کے دین کے لئے جائیدادیں وقف کرنے کی تحریک پڑھکر دل کو اس قدر خوشی ہوئی کہ اللہ ستائے ہی جانتا ہے۔میری جائیداد قریب قریب اس وقت بوجہ جنگ کے دوں گھر کی ہے (۲۰۰۰۰ روپیہ) میں خدا کے دین کی اشاعت کے لئے بسم اللہ کرکے وقف کرتا ہوں۔یہ جائیداد کیا چیز ہے میرا ائر بھی اس کام کے لئے حاضر ہے۔۔۔۔تابعدار میاں خدا بخش نمبر دار کوٹ مومن تحصیل بھلوالی ضلع شاہ پور سرگودھا " ا صلح جنوری کو پیش کو آپ نے اپنی زندگی زمیں سے ایک کنال رقبہ صدر بھی احدیہ کے نام پیٹریا کرا دیا ۶۱۹۳۵ اور اس میں مسجد محمدیہ کی تعمیرشروع کی اگر در به سجده با تکمیل تک پہنچی ادھر ایسی کا جادا گیا۔اپنی زندگی کے آخری ه الفضل ا ر خا راکتوری کالم ۳ دلم به