تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 542 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 542

Ara تبلیغ کے لئے جانا ہے۔اسکے علاوہ انہیں مغربی رسم ورواج اور مغربی طرز زندگی سے بھی آگاہی حاصل کرنی ہے۔مسجد کے امام مولوی جلال الدین شمسی سیکھوانی نئے گلوب" کے نمائندے سے بیان کیا کہ ہمارے خیالی میں اسلام کو یہ بہت بڑا موقع ملا ہے کہ یورپ میں امن بحال کرے۔جنگ نے یورپ کا کچومر نکال دیا ہے۔ہمارے مستیغ پر امن طریقوں سے اسلام کے نصب العین اور نظریوں کی تبلیغ کریں گے۔کتابیں تقسیم کی جائیں گی اور تقریب میں ہوں گی۔مختلف انجمنوں سے وابستگی کا سلسلہ قائم کر کے تبادلہ خیال ہوتا رہے گا۔مغربی مصنفوں نے ہمارے مذہب کو غلط پیش کیا ہے۔ہم نے اس کے خلاف بھی مصروف بہا د ہونا ہے اہل مغرب نے اسلام کو غلط سمجھا ہے۔اب ہمارا یہ کام ہے کہ ہم اسلام کی صحیح تصویر پیش کریں۔جماعت احمدیہ کا صرف پودر مین شعبہ ہی اپنی سرگرمیوں کو تیز تر نہیں کر رہا بلکہ کرہ ارض کے طول و عرض میں مبلغ بھیجے جارہے ہیں۔ایک احمدی تبلیغی دند سید سفیر الدین بشیر احمد کی زیر قیادت مغربی افریقہ جانے والا ہے۔یٹنی کی مسجد میں تربیت کا انتظام مسٹر مشتاق احمد باجوہ کے سپرد ہے جو حال ہی میں قادیان سے یہاں پہنچے ہیں۔آپ امام جلال الدین شمسی کے جانشین ہوں گے جو مراجعت فرمائے قادیان ہو رہے ہیں رائٹر نے خبر دی کہ : یورپول سے بارہ احمدی مستقین کی ایک جماعت بھی بہت رات گئے اور پولی سے ان کی پہنی اور مینی کی مسجد میں تبلیغی نقشہ تیار کہ رہی ہے۔یہ حضرات ہندوستان سے " سٹی آف انگزیٹر جہاز میں اور پول پہنچے تھے مسجد مینی کے امام اس جماعت کے تیرھویں نمبر ہیں۔یہ تیرہ کے نیزہ مسجد کے خوشنما محن میں چہل قدمی کرتے رہے اور تجویزیں مرتب کر تے رہے۔یہ حضرات انگلستان میں چھ مہینے گزاری کے اور یورپ کی زبانیں سیکھیں گے۔انہیں تین سال یورپ میں گزار نے ہوں گے اس کے بعد وہ قادیان واپس چلے جائیں گے اور ان کی جگہ اور لوگ آجائیں گئے۔اس جماعت کا سب سے کم عمر رکن مسٹر چو ہدروی (۲۳ سال) اور سب سے بڑے کی عمر ہ نہ سال ہے۔یہ سب کے سب احمدی ہیں اور ان کی آمد سے بریطانی جرائد نگاروں کے لئے دلچسپی کا نیا سامان پیدا ہوگیا ہے۔ان کا لباس خوشنما ہے اور ان کے سروں پر سفید در سبز پگڑیاں بھلی معلوم ہوتی ہیں " سے ه حواله الفضل و صلح ۱۳۳۵ مادرش صفر و کالم ۳-۴ :