تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 37
ان کا دفعیہ نہیں کیا جا سکتا تو پھر وہ پوائنٹ نوٹ کریں کہ کون کونسی ایسی باتیں ہیں جو موجود و علوم سے مل نہیں ہوتیں اور نہ صرف خود ان پر غور کریں بلکہ کالج کے بالمقابل چونکہ ایک سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کی گئی ہے اس لئے وہ پر آئنٹ، نوٹ کر کے اس انسٹی ٹیوٹ کو بھجواتے رہیں اور انہیں کہیں کہ تم بھی ان باتوں پر غور کرو اور ہماری مدد کرو کہ کس طرح اسلام کے مطابق ہم ان کی تشریح کر سکتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام ان باتوں کا محتاج نہیں۔اسلام وہ مذہب ہے جس کا مدار ایک زندہ خدا پہ ہے پس وہ سائنس کی تحقیقات کا محتاج نہیں۔مثلاً وہی پروفیسر مولی حین کا یمیں نے ابھی ذکر کیا ہے۔جب مجھے ملے تو انہوں نے بتایا کہ وہ اور نیو یارک کے بعض اور پر تو میر بھی تحقیقات کے بعد اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اس ساری یونیورس کا ایک مرکز ہے۔اس مرکز کا انہوں نے نام بھی لیا تھا جو مجھے صحیح طور پر یاد نہیں رہا۔انہوں نے بتایا کہ سارے نظام عالم کا فلاں مرکز ہے جس کے گرد یہ سورج اور اس کے علاوہ اور لاکھوں کروڑوں سورج چکر لگا رہے ہیں اور انہوں نے کہا۔میری تھیوری یہ ہے کہ یہی مرکز خدا ہے۔گویا اس تحقیق کے ذریعہ ہم خدا کے بھی قائل ہیں۔یہ نہیں کہ ہم دہر میت کی طرف مائل ہو گئے ہوں۔پہلے سائنس بھدا تعالیٰ کے وجود کو رد کرتی تھی مگر اب ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ اس سارے نظام کا ایک مرکز ہے جو حکومت کر رہا ہے اور دہی مرکز خدا ہے۔میں نے کہا۔نظام عالم کے ایک مرکز کے متعلق آپ کی ہو تحقیق ہے مجھے اس پر اعتراض نہیں۔قرآن کریم سے بھی ثابت ہے کہ دنیا ایک نظام کے ماتحت ہے اور اس کا ایک مرکز ہے۔مگر آپ کا یہ کہنا کہ وہی مرکنہ خدا ہے درست نہیں۔میں نے ان سے کہا مجھ پر اللہ تعالے کی طرف سے الہامات نازل ہوتے ہیں اور کئی ایسی باتیں ہیں جو اپنے کلام اور الہام کے ذریعہ وہ مجھے قبل از وقت بتا دیتا ہے۔آپ بتائیں کہ کیا آپ جس مرکز کو خدا کہتے ہیں وہ بھی کسی پر الہام نازل کو سکتا ہے۔وہ کہنے لگے۔الہام تو نازل نہیں کر سکتا میں نے کہا تو پھر میں کس طرح تسلیم کرلوں کہ وہی مرکز خدا ہے۔مجھے ذاتی طور پر اس بات کا علم ہے کہ خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے اور وہ باتیں اپنے وقت پر پوری ہو جاتی ہیں۔کوئی بات کچھ مہینے کے لیے اس کا ذکر آگے آرہا ہے (مرتب)